شاعری ہب / نظم / امروز (وقت کا لامتناہی بہاؤ)

امروز (وقت کا لامتناہی بہاؤ)

Imroz Nazm Majeed Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

امروز کے بہتے ہوئے دھارے میں بہہ گئے لاکھوں سورج

پر انسان کی سچی پیاس کبھی نہ بجھ سکی!

ہم نے تو لمحوں کے آئینے میں دیکھا ہے ازل کا جلوہ

جہاں ہر سطر میں کائنات کا راز سمٹ آیا ہے!

امجدؔ جدید نظم کا یہ فکری کمال سدا رہے گا

جس نے دل کے گوشے گوشے کو منور کیا ہے!

Imroz Ke Bahte Hue Dhaare Mein Bah Gaye Laakhon Sooraj

Par Insaan Ki Sacchi Pyaas Kabhi Na Bujh Saki!

Hum Ne To Lamhon Ke Aayine Mein Dekha Hai Azal Ka Jalwa

Jahan Har Satr Mein Kaayenaat Ka Raaz Simat Aaya Hai!

Amjad Jadeed Nazm Ka Yeh Fikri Kamaal Sada Rahe Ga

Jis Ne Dil Ke Goshe Goshe Ko Munawwar Kiya Hai!

نظم Urdu
Comment
مجید امجد
تعارفِ شاعر

مجید امجد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 جون 1914 — 11 مئی 1974 📍

عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے