شاعری ہب / نظم / ساہیوال کی شام اور تنہائی

ساہیوال کی شام اور تنہائی

Sahiwal ki Sham Nazm Majeed Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ساہیوال کی تنہا شاموں نے سکھایا ہے فلسفہ

کہ اصل شاعری روح کے اندر سے جنم لیتی ہے سدا!

وہ درویشانہ گوشہ جہاں دنیا کے شور سے دوری تھی

وہاں اپنے کلام سے نیا جہان بسایا ہم نے سدا!

امجدؔ جدید اردو نظم کا یہ چوتھا ستون سدا قائم رہے گا

جس پر فخر کرتا ہے سارا ادبِ کارواں سدا!

Sahiwal Ki Tanha Shaamon Ne Sikhaaya Hai Falsafa

Ke Asal Shaaeri Rooh Ke Andar Se Janam Leti Hai Sada!

Woh Darweshaana Gosha Jahan Duniya Ke Shor Se Doori Thi

Wahan Apne Kalaam Se Naya Jahan Basaaya Hum Ne Sada!

Amjad Jadeed Urdu Nazm Ka Yeh Chautha Sutoon Sada Qaayam Rahe Ga

Jis Par Fakhr Karta Hai Saara Adab-e-Kaarwaan Sada!

نظم Urdu
Comment
مجید امجد
تعارفِ شاعر

مجید امجد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 جون 1914 — 11 مئی 1974 📍

عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے