شاعری ہب / نظم / آٹوگراف

آٹوگراف

Autograph Nazm Majeed Amjad

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آٹوگراف کی سطروں پہ لکھا ہے وقت کا فسانہ

جسے زمانے کی کوئی ہوا مٹا نہیں سکتی کبھی!

ہم نے تو اپنے دل کے جذبات کو سمیٹ دیا ہے لفظوں میں

تا کہ بیتے ہوئے لمحوں کا کوئی نشان باقی رہے کبھی!

امجدؔ یادوں کی یہ چمک سدا تابندہ رہے گی

جس سے انسانی رشتوں کا تقدس قائم رہے گا کبھی!

Autograph Ki Satron Pe Likha Hai Waqt Ka Fasaana

Jise Zamane Ki Koi Hawa Mita Nahin Sakti Kabhi!

Hum Ne To Apne Dil Ke Jazbaat Ko Samet Diya Hai Lafzon Mein

Ta Ke Beete Hue Lamhon Ka Koi Nishaan Baaqi Rahe Kabhi!

Amjad Yaadon Ki Yeh Chamak Sada Taabinda Rahe Gi

Jis Se Insaani Rishton Ka Taqaddus Qaayam Rahe Ga Kabhi!

نظم Urdu
Comment
مجید امجد
تعارفِ شاعر

مجید امجد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 جون 1914 — 11 مئی 1974 📍

عبدالمجید المعروف مجیدؔ امجد (29 جون 1914ء – 11 مئی 1974ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، منفرد اور گہرے فلسفیانہ و کائناتی شعور کے مالک جدید اردو نظم نگار مانے جاتے ہیں۔ آپ جھنگ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے