شاعری ہب / غزل / چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے دیکھا ہے

چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے دیکھا ہے

Chiraagh-e-Shab ko Hawa se Bacha ke Dekha Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے دیکھا ہے

ترے بغیر یہ دل بھی جلا کے دیکھا ہے

وہ جس کے واسطے روتے رہے سدا محسنؔ

اسی کے شہر میں خود کو لٹا کے دیکھا ہے

اب اپنے آپ سے بھی کوئی التجا نہ رہی

ہم نے تو سچ کی صدا کو سجا کے دیکھا ہے

Chiraagh-e-Shab Ko Hawa Se Bacha Ke Dekha Hai

Tere Baghair Yeh Dil Bhi Jala Ke Dekha Hai

Woh Jis Ke Waaste Rote Rahe Sada Mohsin

Usi Ke Shahr Mein Khud Ko Luta Ke Dekha Hai

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے