چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے دیکھا ہے
Chiraagh-e-Shab ko Hawa se Bacha ke Dekha Hai
چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے دیکھا ہے
ترے بغیر یہ دل بھی جلا کے دیکھا ہے
وہ جس کے واسطے روتے رہے سدا محسنؔ
اسی کے شہر میں خود کو لٹا کے دیکھا ہے
اب اپنے آپ سے بھی کوئی التجا نہ رہی
ہم نے تو سچ کی صدا کو سجا کے دیکھا ہے
Chiraagh-e-Shab Ko Hawa Se Bacha Ke Dekha Hai
Tere Baghair Yeh Dil Bhi Jala Ke Dekha Hai
Woh Jis Ke Waaste Rote Rahe Sada Mohsin
Usi Ke Shahr Mein Khud Ko Luta Ke Dekha Hai
غزل
تعارفِ شاعر
محسن نقوی
سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...
