شاعری ہب / غزل / وہ مرا نام بھی اپنے لبوں پہ لانے سے ڈرا

وہ مرا نام بھی اپنے لبوں پہ لانے سے ڈرا

Woh Mera Naam bhi Apne Labon pe Laane se Dara

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ مرا نام بھی اپنے لبوں پہ لانے سے ڈرا

جو مری بزم کا ہر شام ستارہ رہا تھا

ہم نے تو لٹائی تھی زندگی اس کے واسطے

وہ تو زمانے کی ہر چال پہ ہنستا رہا تھا

محسنؔ دلِ ناداں کی حماقت کا کیا کہیں

جو دشمنِ جاں کو بھی اپنا سمجھتا رہا تھا

Woh Mera Naam Bhi Apne Labon Pe Laane Se Dara

Jo Meri Bazm Ka Har Shaam Sitara Raha Tha

Hum Ne To Lutayi Thi Zindagi Us Ke Waaste

Woh To Zamane Ki Har Chaal Pe Hansta Raha Tha

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے