شاعری ہب / غزل / ہم مسافر ہیں مگر اپنا کوئی دیس نہیں

ہم مسافر ہیں مگر اپنا کوئی دیس نہیں

Hum Musafir Hain Magar Apna Koi Des Nahin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم مسافر ہیں مگر اپنا کوئی دیس نہیں

ہر نگر میں ترے جلووں کی ضیا پائی ہے

ہم نے ہر دور کے مقتل میں جلائے ہیں دیے

روشنی ہم نے سدا خون سے پھیلائی ہے

اب نہ وہ زنجیر رہی اور نہ وہ زنداں باقی

ہم نے آزادی کی اک نئی صبح جگائی ہے

Hum Musafir Hain Magar Apna Koi Des Nahin

Har Nagar Mein Tere Jalwon Ki Ziya Payi Hai

Hum Ne Har Daur Ke Maqtal Mein Jalaye Hain Diye

Roshni Hum Ne Sada Khoon Se Phailayi Hai

غزل
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے