ہم مسافر ہیں مگر اپنا کوئی دیس نہیں
Hum Musafir Hain Magar Apna Koi Des Nahin
ہم مسافر ہیں مگر اپنا کوئی دیس نہیں
ہر نگر میں ترے جلووں کی ضیا پائی ہے
ہم نے ہر دور کے مقتل میں جلائے ہیں دیے
روشنی ہم نے سدا خون سے پھیلائی ہے
اب نہ وہ زنجیر رہی اور نہ وہ زنداں باقی
ہم نے آزادی کی اک نئی صبح جگائی ہے
Hum Musafir Hain Magar Apna Koi Des Nahin
Har Nagar Mein Tere Jalwon Ki Ziya Payi Hai
Hum Ne Har Daur Ke Maqtal Mein Jalaye Hain Diye
Roshni Hum Ne Sada Khoon Se Phailayi Hai
غزل
تعارفِ شاعر
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...
