ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
Hum bhi Dushman to Nahin Hain Apne
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو دل سے لگائیں کیسے
عشق میں جو لٹا چکے ہیں سب کچھ
اب وہ اس شہر میں آئیں کیسے
روشنی کا سفر تھا دشوار بہت
دل کے داغوں کو چھپائیں کیسے
ساغرؔ اس بزم میں سچ کہنا گناہ
ہم لبوں پر صدا لائیں کیسے
Hum Bhi Dushman To Nahin Hain Apne
Ghair Ko Dil Se Lagayein Kaise
Ishq Mein Jo Luta Chuke Hain Sab Kuch
Ab Woh Is Shahr Mein Aayein Kaise
Roshni Ka Safar Tha Dushwaar Bohat
Dil Ke Daaghon Ko Chhupayein Kaise
غزل
تعارفِ شاعر
ساغر صدیقی
محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
