شاعری ہب / غزل / ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے

Hum bhi Dushman to Nahin Hain Apne

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے

غیر کو دل سے لگائیں کیسے

عشق میں جو لٹا چکے ہیں سب کچھ

اب وہ اس شہر میں آئیں کیسے

روشنی کا سفر تھا دشوار بہت

دل کے داغوں کو چھپائیں کیسے

ساغرؔ اس بزم میں سچ کہنا گناہ

ہم لبوں پر صدا لائیں کیسے

Hum Bhi Dushman To Nahin Hain Apne

Ghair Ko Dil Se Lagayein Kaise

Ishq Mein Jo Luta Chuke Hain Sab Kuch

Ab Woh Is Shahr Mein Aayein Kaise

Roshni Ka Safar Tha Dushwaar Bohat

Dil Ke Daaghon Ko Chhupayein Kaise

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے