شاعری ہب / غزل / شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی

شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی

Shab-e-Gham ki Sehar Nahin Hoti

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ غم کی سحر نہیں ہوتی

درد کی کچھ خبر نہیں ہوتی

ہم نے مانگی تھی اک نظر اس کی

پر ادھر کو نظر نہیں ہوتی

ساغرؔ اس بزم میں جلائے دیے

روشنی کا اثر نہیں ہوتی

Shab-e-Gham Ki Sahar Nahin Hoti

Dard Ki Kuch Khabar Nahin Hoti

Hum Ne Maangi Thi Ik Nazar Us Ki

Par Idhar Ko Nazar Nahin Hoti

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے