شاعری ہب / غزل / ہوائے شب میں کوئی گیت گنگناتا ہے

ہوائے شب میں کوئی گیت گنگناتا ہے

Hawa-e-Shab mein Koi Geet Gungunata Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہوائے شب میں کوئی گیت گنگناتا ہے

پرانا درد مرے دل کو پھر رلاتا ہے

وہ ایک چہرہ جو صدیوں سے تھا مرے دل میں

وہ آج خواب کے رستے سے یاد آتا ہے

ناصرؔ اس شام کی تنہائی کا بیاں مت پوچھ

ہر اک پرندہ سدا اپنے گھر کو جاتا ہے

Hawa-e-Shab Mein Koi Geet Gungunata Hai

Purana Dard Mere Dil Ko Phir Rulata Hai

Woh Ek Chehra Jo Sadiyon Se Tha Mere Dil Mein

Woh Aaj Khwab Ke Raste Se Yaad Aata Hai

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے