شاعری ہب / غزل / ہر اک قدم پہ ستارے چمکتے جاتے ہیں

ہر اک قدم پہ ستارے چمکتے جاتے ہیں

Har Ik Qadam pe Sitare Chamakte Jaate Hain Ghazal Josh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہر اک قدم پہ ستارے چمکتے جاتے ہیں

جب ترے کوچے سے ہم گزرتے جاتے ہیں

وہ جو کہتے تھے وفا کا فسانہ جھوٹا ہے

اب ہماری ہی غزلیں پڑھتے جاتے ہیں

جوشؔ محبت کے اس سفر میں رکنا گناہ

جہاں قافلے نور کے بڑھتے جاتے ہیں

Har Ik Qadam Pe Sitaare Chamakte Jaate Hain

Jadon Tere Kooche Se Hum Guzarte Jaate Hain

Woh Jo Kehte The Wafa Ka Fasaana Jhoota Hai

Ab Hamari Hi Ghazlein Padhte Jaate Hain

غزل Urdu
Comment
جوش ملیح آبادی
تعارفِ شاعر

جوش ملیح آبادی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 دسمبر 1898 — 22 فروری 1982 📍 ملیح آباد / لکھنؤ / دہلی / اسلام آباد، پاکستان

شبیر حسن خاں المعروف جوش ملیح آبادی (5 دسمبر 1898ء – 22 فروری 1982ء) اردو ادب کے سب سے پرشکوہ، قادر الکلام، انقلابی اور الفاظ کے سب سے بڑے شہسوار و جادوگر شاعر تھے۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے