شاعری ہب / غزل / مری نظر میں ترا حسن ہے شباب ترا

مری نظر میں ترا حسن ہے شباب ترا

Meri Nazar mein Tera Husn Hai Shabab Tera Ghazal Josh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مری نظر میں ترا حسن ہے شباب ترا

سارے گلشن کو مدہوش کرے حجاب ترا

ہم تو نکلے تھے تری دید کی تمنا لے کر

پر قیامت کا سماں ہے یہ عتاب ترا

جوشؔ اس بزم میں تیرا ہی قصیدہ لکھیں گے

جس سے روشن رہے گا یہ کتاب ترا

Meri Nazar Mein Tera Husn Hai Shabaab Tera

Saare Gulshan Ko Madhosh Kare Hijaab Tera

Hum To Nikle The Teri Deed Ki Tamanna Le Kar

Par Qayamat Ka Samaan Hai Yeh Itaab Tera

غزل Urdu
Comment
جوش ملیح آبادی
تعارفِ شاعر

جوش ملیح آبادی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 دسمبر 1898 — 22 فروری 1982 📍 ملیح آباد / لکھنؤ / دہلی / اسلام آباد، پاکستان

شبیر حسن خاں المعروف جوش ملیح آبادی (5 دسمبر 1898ء – 22 فروری 1982ء) اردو ادب کے سب سے پرشکوہ، قادر الکلام، انقلابی اور الفاظ کے سب سے بڑے شہسوار و جادوگر شاعر تھے۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے