شاعری ہب / غزل / یہ حسن و عشق کی رنگینیاں کہاں تک ہیں

یہ حسن و عشق کی رنگینیاں کہاں تک ہیں

Yeh Husn-o-Ishq ki Ranginiyan Kahan Tak Hain Ghazal Josh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ حسن و عشق کی رنگینیاں کہاں تک ہیں

دلِ بے تاب کی نادانیاں کہاں تک ہیں

ہم نے تو دیکھا ہے چمن کو اجڑتے ہوئے بھی

اب اس خزاں میں بہار کی نشانیاں کہاں تک ہیں

جوشؔ سچائی کی راہ میں کانٹے ہی سہی

پر اس سفر میں قربانیاں کہاں تک ہیں

Yeh Husn-o-Ishq Ki Rangiiniyan Kahan Tak Hain

Dil-e-Be-Taab Ki Naadaaniyan Kahan Tak Hain

Hum Ne To Dekha Hai Chaman Ko Ujadte Hue Bhi

Ab Is Khizaan Mein Bahaar Ki Nishaaniyan Kahan Tak Hain

غزل Urdu
Comment
جوش ملیح آبادی
تعارفِ شاعر

جوش ملیح آبادی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 دسمبر 1898 — 22 فروری 1982 📍 ملیح آباد / لکھنؤ / دہلی / اسلام آباد، پاکستان

شبیر حسن خاں المعروف جوش ملیح آبادی (5 دسمبر 1898ء – 22 فروری 1982ء) اردو ادب کے سب سے پرشکوہ، قادر الکلام، انقلابی اور الفاظ کے سب سے بڑے شہسوار و جادوگر شاعر تھے۔ آپ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے