شاعری ہب / غزل / غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں

Ghir Ion Krta He Miri Prssh As

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں

بے تکلّف دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست

تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک

مجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست

جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغ

سَر کرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست

Ghair Yun karta hai Meri prssh Is ke Hijr mein

Be tklf Dost ho jaise Koi Gham khoar-e Dost

Takh mein Janon ke hai Is ki rsai oan tlk

Mujh ko deta hai Payam-e oad-e- Deedar-e Dost

Jab ke mein karta hoon Apna shko-e- zaf-e dimaġ

Sr krey hai woh hadees-e Zulf-e anbr Baar-e Dost

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے