شاعری ہب / غزل / فطرت کو خرد کے روبرو کر

فطرت کو خرد کے روبرو کر

Fitrat ko Khirad ke Ru-Ba-Ru Kar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

فطرت کو خرد کے روبرو کر

تسخیر مقام رنگ و بو کر

تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے

کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر

تاروں کی فضا ہے بیکرانہ

تو بھی یہ مقام آرزو کر

عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں

چاک گل و لالہ کو رفو کر

بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت

جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر

Fitrat ko khirad ke roo-ba-roo kar

Taskheer-e-maqam-e-rang-o-boo kar

Tu apni khudi ko kho chuka hai

Khoi hui shai ki justuju kar

Taaron ki faza hai be-karana

Tu bhi ye maqam-e-aarzoo kar

Uryaan hain tere chaman ki hoorain

Chaak-e-gul-o-lala ko rafu kar

Be-zauq nahin agarche fitrat

Jo us se na ho saka wo tu kar

غزل Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے