شاعری ہب / Kalam / فلسفۂ عشق و جنون

فلسفۂ عشق و جنون

Falsafa-e-Ishq-o-Junoon Ghani Khan

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

عقل والوں نے تو باندھے ہیں سدا مصلحت کے جال

پر جنونِ عشق نے توڑے ہیں سارے بندھن سدا!

ہم نے تو اپنے جذبات کو آزادی کا پرچم بنایا

جہاں ہر سطر میں سچائی کا نور دمکتا ہے سدا!

غنیؔ فلسفہ اور شاعری کا یہ امتزاج سدا رہے گا

جس سے انسانی فکر کو نیا پرواز ملتا ہے سدا!

Aql Waalon Ne To Baandhe Hain Sada Maslehat Ke Jaal

Par Junoon-e-Ishq Ne Tode Hain Saare Bandhan Sada!

Hum Ne To Apne Jazbaat Ko Aazaadi Ka Parcham Banaya

Jahan Har Satr Mein Sacchayi Ka Noor Damakta Hai Sada!

Ghani Falsafa Aur Shaaeri Ka Yeh Imtizaaj Sada Rahe Ga

Jis Se Insaani Fikr Ko Naya Parwaaz Milta Hai Sada!

Kalam Pashto
Comment
غنی خان
تعارفِ شاعر

غنی خان

🏛️ عہدِ جدید ⏳ دسمبر 1914 — 15 مارچ 1996 📍 ہشت نگر، چارسدہ، پاکستان

خان عبد الغنی خان المعروف غنیؔ خان (دسمبر 1914ء – 15 مارچ 1996ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم پشتو فلسفی شاعر، مصور، مجسمہ ساز اور صاحبِ طرز دانشور مانے جاتے ہیں۔ آپ تحریکِ آزادی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے