شاعری ہب / نظم / یورپ سے ایک خط

یورپ سے ایک خط

Europe se Ek Khat – Hum Khogar Mehsoos Hain Sahik Ky Khareedar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم خوگر محسوس ہيں ساحل کے خريدار

اک بحر پر آشوب و پر اسرار ہے رومي

تو بھي ہے اسي قافلہء شوق ميں اقبال

جس قافلہء شوق کا سالار ہے رومي

اس عصر کو بھي اس نے ديا ہے کوئي پيغام؟

کہتے ہيں چراغ رہ احرار ہے رومي

جواب

کہ نبايد خورد و جو ہمچوں خراں

آہوانہ در ختن چر ارغواں

ہر کہ کاہ و جو خورد قرباں شود

ہر کہ نور حق خورد قرآں شود

Hum Khugar-e-Mehsoos Hain Sahil Ke Khareedar

Ek Behar-e-Pur-Ashob-o-Pur-Israr Hai Rumi

Tu Bhi Hai Uss Qafla-e-Shuaq Mein Iqbal

Jis Qafla-e-Shuaq Ka Salaar Hai Rumi

Iss Asar Ko Bhi Uss Ne Diya Hai Koi Pegham

Kehte Hain Charagh-e-Reh-e-Ahraar Hai Rumi

نظم Urdu
Comment
علامہ اقبال
تعارفِ شاعر

علامہ اقبال

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 9 نومبر 1877 — 21 اپریل 1938 📍

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء – 21 اپریل 1938ء) مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، حکیم الامت اور بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے اردو اور فارسی زبان میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے