شاعری ہب / غزل / دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

Dil Na-Ummeed to Nahin Na-Kaam hi to Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

دستِ فلک میں گردشِ تقدیر ہی سہی

دستِ طلب میں ساغر و مے جام ہی تو ہے

ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی سہی

دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے

Dil Na-Ummeed To Nahin Na-Kaam Hi To Hai

Lambi Hai Gham Ki Shaam Magar Shaam Hi To Hai

Dast-e-Falak Mein Gardish-e-Taqdeer Hi Sahi

Dast-e-Talab Mein Saaghar-o-Mey Jaam Hi To Hai

غزل
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے