شاعری ہب / غزل / دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے

دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے

Dia He Dl Agr As ko Bshr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے ، کیا کہیے

ہوا رقیب ، تو ہو ، نامہ بر ہے ، کیا کہیے

یہ ضد کہ آج نہ آوے ، اور آئے بِن نہ رہے

قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے ، کیا کہیے!

رہے ہے یوں گہ و بے گہ ، کہ کوئے دوست کو اب

اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے ، کیا کہیے!

Diya hai Dil Agar as ko bshr hai kiya khiey

Hua Raqeeb to ho namah br hai kiya khiey

Yeh zid ke aaj na aaoey aur aaye bn na rhey

Qaza se shikva Hamen Kis qadr hai kiya khiey

Rhey hai Yun gh-o-be gh ke koe Dost ko ab

Agar na khiey ke Dushman ka ghar hai kiya khiey

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے