شاعری ہب / غزل / داغؔ کو کون مٹائے گا زمانے سے بھلا

داغؔ کو کون مٹائے گا زمانے سے بھلا

Dagh ko Kaun Mitayega

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

داغؔ کو کون مٹائے گا زمانے سے بھلا

جب تلک اردو رہے گی نام اس کا رہے گا

ریختہ جس سے نکھر کر بنا شائستہ کلام

اس دہلوی کی زبان کا فسانہ رہے گا

ہم نے محفل کو سکھائی ہے نزاکت سخن کی

اہلِ فن کے لبوں پہ یہ ترانہ رہے گا

کوئی ہم پلہ نہ ہوگا مری شوخی کا کبھی

شاعری میں مرا انداز یگانہ رہے گا

فخر سے بولیں گے دلی کے سبھی اہلِ ادب

کہ سخن کے لیے داغؔ ہی سہارا رہے گا

Dagh ko kaun Mitaye Ga Zamane se bhla

Jab tlk urdu rhey gi Naam Is ka rhey Ga

Rekhta Jis se nkhr kar bana shaista kalam

Is dihlavi ki zabaan ka fasana rhey Ga

Hum Ne mahfil ko skhai hai Nazakat skhn ki

Ahl-e fun ke Labon pe yeh tarana rhey Ga

Koi Hum plh na hoga mri shokhi ka kabhi

Shaairi mein Mara andaz yagana rhey Ga

Fakhr se bolin Ge Dili ke Sabhi ahl-e adab

Ke skhn ke liye dagh hi sahara rhey Ga

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے