شاعری ہب / غزل / خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

Khub Parda Hai ke Chilman se Lage Baithe Hain Ghazal Dagh Dehlvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

ہم تو تڑپیں گے ترے ہجر کے ویرانے میں

آپ آ کر بھی گلے سے لگاتے بھی نہیں

داغؔ اس شوخ ادا کی کیا کہیے نزاکت

وہ ستم ڈھاتے ہیں اور مسکراتے بھی نہیں

Khub Parda Hai Ke Chilman Se Lage Baithe Hain

Saaf Chhupte Bhi Nahin Saamne Aate Bhi Nahin

Hum To Tadpeinge Tere Hijr Ke Weerane Mein

Aap Aa Kar Bhi Gale Se Lagate Bhi Nahin

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے