شاعری ہب / غزل / ستم گر ترے ستم کا اثر دیکھتے ہیں

ستم گر ترے ستم کا اثر دیکھتے ہیں

Sitamgar Tere Sitam ka Asar Dekhte Hain Ghazal Dagh

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ستم گر ترے ستم کا اثر دیکھتے ہیں

ہم اپنے دل کا اب حشر دیکھتے ہیں

وہ جو کہتے تھے وفا کا نبھائیں گے وعدہ

ان کی نظروں کا اب زہر دیکھتے ہیں

داغؔ دہلی کی محفلیں یاد آتی ہیں

جب اس دیار کا اب قہر دیکھتے ہیں

Sitamgar Tere Sitam Ka Asar Dekhte Hain

Hum Apne Dil Ka Ab Hashr Dekhte Hain

Woh Jo Kehte The Wafa Ka Nibhaayeinge Waada

Un Ki Nazron Ka Ab Zahr Dekhte Hain

غزل
Comment
نواب مرزا داغ دہلوی
تعارفِ شاعر

نواب مرزا داغ دہلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1831 — 15 فروری 1905 📍

نواب مرزا خاں داغ دہلوی (25 مئی 1831ء – 15 فروری 1905ء) اردو زبان کے سب سے بڑے زبان دان، فصیح اللسان اور شوخیِ گفتار و محاورہ بندی کے بے تاج بادشاہ تسلیم کیے جاتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے