شاعری ہب / غزل / بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں

بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں

Bulaati Hai Magar Jaane ka Nahin Ghazal Rahat

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں

یہ دنیا ہے ادھر جانے کا نہیں!

مرے بیٹے کسی سے عشق کر

مگر حد سے گزر جانے کا نہیں!

زمینیں پاؤں کا چکر ہوئیں ہیں

ہوا میں اب اتر جانے کا نہیں!

ستارے نوچ کر لے جاؤں گا میں

فلک خالی ہے ڈر جانے کا نہیں!

وبا پھیلی ہوئی ہے ہر طرف ہی

ابھی سینے سے لگ جانے کا نہیں!

Bulaati Hai Magar Jaane Ka Nahin

Yeh Duniya Hai Idhar Jaane Ka Nahin!

Mere Bete Kisi Se Ishq Kar

Magar Hadd Se Guzar Jaane Ka Nahin!

Zameenein Paaon Ka Chakkar Hui Hain

Hawa Mein Ab Utar Jaane Ka Nahin!

Sitaare Noch Kar Le Jaaunga Main

Falak Khaali Hai Dar Jaane Ka Nahin!

Waba Phaili Hui Hai Har Taraf Hi

Abhi Seene Se Lag Jaane Ka Nahin!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر راحت اندوری
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر راحت اندوری

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1 جنوری 1950 — 11 اگست 2020 📍

راحت اللہ قریشی المعروف ڈاکٹر راحتؔ اندوری (1 جنوری 1950ء – 11 اگست 2020ء) معاصر اردو ادب کے سب سے بے باک، مقبول، سحر انگیز اور شعلہ بیاں خطیبِ مشاعرہ اور قادر الکلام غزل گو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے