ڈاکٹر راحت اندوری

Dr. Rahat Indori

Classical
1 جنوری 1950-11 اگست 2020 اندور، مدھیہ پردیش, بھارت
راحت اللہ قریشی المعروف ڈاکٹر راحتؔ اندوری (1 جنوری 1950ء – 11 اگست 2020ء) معاصر اردو ادب کے سب سے بے باک، مقبول، سحر انگیز اور شعلہ بیاں خطیبِ مشاعرہ اور قادر الکلام غزل گو تھے۔ آپ اندور (مدھیہ پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے اور برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے 'اردو مشاعرہ' کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے اپنے منفرد ڈرامائی انداز، گرجدار آواز اور نڈر شاعری سے برصغیر اور دنیا بھر کے مشاعروں میں تہلکہ مچا دیا۔ ان کے اشعار 'اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے / یہ سب دھواں ہے کوئی آسماں تھوڑی ہے' اور 'بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں' نے عالمی سطح پر انقلابی اور سوشل میڈیا ریکارڈز قائم کیے۔ ان کے شعری مجموعوں میں 'دھوپ دھوپ'، 'ناراض'، 'موجود'، 'چاند پاگل ہے'، 'رت'، 'کن فیکون' اور کلیات 'میرے بعد' شامل ہیں۔
دوستی جب کسی سے کی جائے دشمنوں کی بھی رائے لی جائے
Dosti jab kisi se ki jaaye Dushmanon ki bhi raye li jaaye
تفصیل دیکھیں »
ہماری پیاس کا اندازہ تم کیا لگاؤ گے کہ ہم تو دریا کو بھی ٹھکرا کے نکل آتے ہیں
Hamari Pyaas Ka Andaaza Tum Kya Lagaoge Ke Hum To Dariya Ko Bhi Thokra Ke Nikal Aate Hain
تفصیل دیکھیں »
شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے
Shakhon Se Toot Jaayein Woh Patte Nahin Hain Hum Aandhi Se Koi Kah De Ke Auqaat Mein Rahe
تفصیل دیکھیں »
فیصلہ جو کچھ بھی ہو منظور ہونا چاہیے جنگ ہو یا عشق ہو بھرپور ہونا چاہیے
Faisla Jo Kuchh Bhi Ho Manzoor Hona Chahiye Jang Ho Ya Ishq Ho Bharpoor Hona Chahiye
تفصیل دیکھیں »
دو گز سہی مگر یہ مری ملکیت تو ہے اے موت تو نے مجھ کو زمیندار کر دیا
Do Gaz Sahi Magar Yeh Meri Milkiyat To Hai Aye Maut Tu Ne Mujh Ko Zameendaar Kar Diya
تفصیل دیکھیں »
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
Sabhi Ka Khoon Hai Shaamil Yahan Ki Mitti Mein Kisi Ke Baap Ka Hindustan Thodi Hai
تفصیل دیکھیں »
بلاتی ہے مگر جانے کا نہیں یہ دنیا ہے ادھر جانے کا نہیں
Bulaati Hai Magar Jaane Ka Nahin Yeh Duniya Hai Idhar Jaane Ka Nahin
تفصیل دیکھیں »
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
Aankh Mein Paani Rakho Honton Pe Chingari Rakho Zinda Rahna Hai To Tarkeeban Bahut Saari Rakho
تفصیل دیکھیں »
اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے یہ سب دھواں ہے کوئی آسماں تھوڑی ہے
Agar Khilaaf Hain Hone Do Jaan Thodi Hai Yeh Sab Dhuwaan Hai Koi Aasmaan Thodi Hai
تفصیل دیکھیں »