شاعری ہب / غزل / اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے (عالمی تاریخی شاہکار)

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے (عالمی تاریخی شاہکار)

Agar Khilaf Hain Hone Do Jaan Thodi Hai Ghazal Rahat

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے کوئی آسماں تھوڑی ہے!

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے!

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے!

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے!

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے!

Agar Khilaaf Hain Hone Do Jaan Thodi Hai

Yeh Sab Dhuwaan Hai Koi Aasmaan Thodi Hai!

Lage Gi Aag To Aayenge Ghar Kayi Zad Mein

Yahan Pe Sirf Hamara Makaan Thodi Hai!

Hamare Munh Se Jo Nikle Wahi Sadaaqat Hai

Hamare Munh Mein Tumhari Zubaan Thodi Hai!

Jo Aaj Saahib-e-Masnad Hain Kal Nahin Honge

Kiraaye-Daar Hain Zaati Makaan Thodi Hai!

Sabhi Ka Khoon Hai Shaamil Yahan Ki Mitti Mein

Kisi Ke Baap Ka Hindustan Thodi Hai!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر راحت اندوری
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر راحت اندوری

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1 جنوری 1950 — 11 اگست 2020 📍

راحت اللہ قریشی المعروف ڈاکٹر راحتؔ اندوری (1 جنوری 1950ء – 11 اگست 2020ء) معاصر اردو ادب کے سب سے بے باک، مقبول، سحر انگیز اور شعلہ بیاں خطیبِ مشاعرہ اور قادر الکلام غزل گو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے