شاعری ہب / غزل / برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے

برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے

Brshkal Grih-e Aashq He Dikha Chahie

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے

کھِل گئی مانندِ گُل سوَ جا سے دیوارِ چمن

اُلفتِ گل سے غلط ہے دعوئ وارستگی

سرو ہے با وصفِ آزادی گرفتارِ چمن

ہے نزاکت بس کہ فصلِ گل میں معمارِ چمن

قالبِ گل میں ڈھلی ہے خشتِ دیوارِ چمن

Brshkal-e gri-e Aashiq hai dekha Chahiye

Khl gi mannd-e gl so ja se Deewaar-e Chaman

Alft Gul se Ghalat hai daoe oarstgi

Sro hai ba wasf-e azadi grftar-e Chaman

Hai Nazakat bas ke fasl-e Gul mein memar-e Chaman

Qalb-e Gul mein dhli hai khisht-e Deewaar-e Chaman

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے