شاعری ہب / غزل / بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار

بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار

Bla se Hin Jo Ih Pish Nzr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار

نگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار

وفورِ عشق نے کاشانہ کا کیا یہ رنگ

کہ ہو گئے مرے دیوار و در در و دیوار

نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یار

گئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار

Bala se hain jo yeh Pesh-e Nazar Dar-o-Deewaar

Nigah-e Shoq ko hain baal-o-par Dar-o-Deewaar

Ofor-e Ishq Ne kashanh ka kiya yeh rang

Ke ho gaye mare Deewaar-o-Dar Dar-o-Deewaar

Nahin hai saih ke sun kar naved mqdm Yaar

Gaye hain Chand Qadam Peshtar Dar-o-Deewaar

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے