شاعری ہب / Qataa / برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر (شاہکار قطعہ)

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر (شاہکار قطعہ)

Barq Girti Hai to Bechare Musalmanon par Akbar Allahabadi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

پھل جو پکتا ہے تو غیروں کی طرف جاتا ہے!

ہم تو اس سوچ میں گم ہیں کہ کدھر جائیں ہم

رستہ کوئی بھی نہ منزل کی طرف جاتا ہے!

اکبرؔ اس دورِ ترقی کا تماشا دیکھو

علم کا شوق بھی دولت کی طرف جاتا ہے!

Barq Girti Hai To Bechare Musalmanon Par

Phal Jo Pakta Hai To Ghairon Ki Taraf Jaata Hai!

Hum To Is Soch Mein Gum Hain Ke Kidhar Jaayein Hum

Rasta Koyi Bhi Na Manzil Ki Taraf Jaata Hai!

Akbar Is Dour-e-Taraqqi Ka Tamasha Dekho

Ilm Ka Shouq Bhi Doulat Ki Taraf Jaata Hai!

Qataa Urdu
Comment
اکبر الہٰ آبادی
تعارفِ شاعر

اکبر الہٰ آبادی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1846ء – 1921ء 📍 الہٰ آباد، برطانوی ہندوستان

سید اکبر حسین رضوی المعروف 'اکبر الہٰ آبادی' (16 نومبر 1846ء – 9 ستمبر 1921ء، الہٰ آباد) اردو شاعری کی تاریخ کے عظیم ترین طنز نگار اور 'لسان العصر' تھے۔ آپ سیشن جج کے اعلیٰ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے