قطعات و متفرقات
قطعات و متفرقات
Qataa 26 کلام
اردو ادب کے منتخب و لازوال کلام کا گلدستہ
عیدِ قرباں سکھاتی ہے محبت کا چلن
رب کی راہ میں لٹا دو تن و جان و چمن
وہ چاند رات کو عید کا جوڑا سرہانے رکھنا
صبح سویرے اٹھ کر عیدی کا بہانا رکھنا
قبرستان کی راہ پہ کھڑے ہیں آج عید کے دن
پھول لائے ہیں ان کے واسطے جو چھوڑ گئے
پردیسیوں سے پوچھو کہ عید کیا ہوتی ہے
فون کی اسکرین پہ سجی امید کیا ہوتی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ چاند نظر آ گیا
فلک سے عید کا سندیسہ لا گیا
چاند رات کی رونقیں اور چوڑیوں کی کھنک
ہر گلی میں مسرت ہر چہرے پہ چمک
گل نے گلشن سے گلاب بھیجا ہے
ستاروں نے فلک سے سلام بھیجا ہے
مہک اٹھی ہے فضا عید کے ترانوں سے
سجے ہیں کوچے ترے دید کے فسانوں سے
دوست وہی جو گرتے ہوئے کو سنبھال لے
دکھ کے سمندر سے مسکرا کے نکال لے
ہوا کے دوش پہ پھیلی ہے خوشبوئے عیداں
سجے ہیں گلیوں میں ہر سو سرور کے ساماں
گزرا ہوا سال جو بھی دکھ دے گیا
آنے والا سال وہ زخم سارے بھر دے
بھیگی مٹی کی وہ مہک، بارش کا وہ شور
کھڑکی کے اس پار کھڑا تیرا ہی تصور
