شاعری ہب / غزل / باغِ جہاں کے پھول ہیں یا خار ہیں ہمیں

باغِ جہاں کے پھول ہیں یا خار ہیں ہمیں

Baagh-e-Jahan ke Phool Hain ya Khaar Hain Humein Ghazal Dard

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

باغِ جہاں کے پھول ہیں یا خار ہیں ہمیں

جو کچھ بھی ہیں مرے مولا ترے دربار کے ہیں!

تیری رحمت کے طلب گار ہیں ہم سائل

تیری ہی بخشش و کرم کے امیدوار کے ہیں!

دردؔ اس دربار سے خالی کوئی نہ گیا

جہاں شاہ و گدا سبھی عاجز لاچار کے ہیں!

Baagh-e-Jahan Ke Phool Hain Ya Khaar Hain Humein

Jo Kuch Bhi Hain Mere Mola Tere Darbaar Ke Hain!

Teri Rehmat Ke Talabgaar Hain Hum Saayil

Teri Hi Bakhshish-o-Karam Ke Umeedwaar Ke Hain!

غزل Urdu
Comment
خواجہ میر درد
تعارفِ شاعر

خواجہ میر درد

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1721 — 11 جنوری 1785 📍

خواجہ سید میر محمدی المتخلص بہ دردؔ (1721ء – 11 جنوری 1785ء) اردو کلاسیکی شاعری کے ارکانِ اربعہ (میر، سودا، درد اور اثر) میں شامل صوفی باصفا اور دہلی کے عظیم ترین صوفی شاعر تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے