شاعری ہب / نظم / عورت اور ٹیلی فون (شہرۂ آفاق مزاحیہ نظم)

عورت اور ٹیلی فون (شہرۂ آفاق مزاحیہ نظم)

Aurat aur Telephone Zamir Jafri

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اٹھایا فون بیگم نے تو گھنٹہ بھر گزر ہی گیا

سہیلی سے جو بات چھڑی تو پورا دن نکل ہی گیا!

سنائیں خالہ و چچی کے سارے گھریلو قصے

فلانے نے خریدا سوٹ، فلانے کے لٹ گئے حصے!

ادھر شوہر کھڑا ہے بھوک سے نڈھال و مضطرب

ادھر فون پہ جاری ہے اک رومانوی کتب!

ضمیرؔ ٹیلی فون کے بل کا نہ پوچھو تم فسانہ

کہ جس کو دیکھ کر رویا ہے سارا کارخانہ!

Uthaaya Phone Begum Ne To Ghanta Bhar Guzar Hi Gaya

Saheli Se Jo Baat Chhidi To Poora Din Nikal Hi Gaya!

Sunaayein Khaala-o-Chachi Ke Saare Gharelu Qissay

Fulaane Ne Khareeda Suit, Fulaane Ke Lut Gaye Hissay!

Idhar Shohar Khada Hai Bhook Se Nidhaal-o-Muztarib

Idhar Phone Pe Jaari Hai Ik Romani Kutub!

Zameer Telephone Ke Bill Ka Na Poochho Tum Fasaana

Ke Jis Ko Dekh Kar Roya Hai Saara Kaarkhaana!

نظم Urdu
Comment
سید ضمیر جعفری
تعارفِ شاعر

سید ضمیر جعفری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 1916ء – 1999ء 📍 جہلم، پنجاب، پاکستان

سید ضمیر حسین شاہ المعروف 'سید ضمیر جعفری' (1 جنوری 1916ء – 12 مئی 1999ء، جہلم / راولپنڈی) اردو ادب کے صفِ اول کے مایہ ناز مزاح نگار، منفرد طنزیہ شاعر اور کالم نویس تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے