دو سطری اشعار
دو سطری اشعار
2-Line Couplets (Shers) 886 کلام
موجِ سخن، سمندر کو کوزے میں بند کرتے لاجواب اور زبان زدِ عام اشعار
عید کے دن بھی آنکھیں برستی رہیں
یادیں دل کے آنگن میں رقص کرتی رہیں
مفلس کی عید بھی اک المیہ ہے زندگی میں
بچوں کی آرزو ہے اور جیب تہی ہے
ساغر صدیقی
Classical
عید کا جوڑا پہن کر کسے دکھاؤں میں
جس کے لیے سنورتی تھی وہ تو چلا گیا
پروین شاکر
Modern
اداس شامِ عید پر چراغ جلائے کون
جو جا چکے ہیں دنیا سے انہیں بلائے کون
آنسو چھپا کر دوستوں کو عید کہتے ہیں
پردیسی دل کو جلا کر عید کہتے ہیں
وطن کی مٹی سے جب عید کی ہوا آئے
دل تڑپ اٹھے اور آنکھوں میں دعا آئے
دیارِ غیر میں کیسی خوشی اور کیسی عید
جب اپنے ہی نہ ہوں تو کیا ہے ہلالِ عید
ماں کے ہاتھ کی سویاں یاد آتی ہیں پردیس میں
بہنوں کی ہنسی اور دعائیں یاد آتی ہیں پردیس میں
کمرے میں بند چار دیواری ہے اور عید کا دن ہے
پردیس میں مسافر کا یہی نصیب بنتا ہے
پردیس کی تنہائی میں عید آئی ہے
اپنوں کی دوری کا پیام لائی ہے
