ہر بات پر جھنجھلا جانا، دوائی کھانے سے انکار کر دینا یا نوکروں اور فیملی پر برس پڑنا… جانیے بزرگوں کے چڑچڑے پن کے پیچھے چھپی وہ خاموش تکلیف جو وہ الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے اور اس کا حل۔
بزرگوں کے غصے کی پوشیدہ حقیقت
کوئی بھی بزرگ جان بوجھ کر چڑچڑا نہیں بنتا۔ درحقیقت بڑھاپے میں اپنی آزادی کا چھن جانا، دوسروں کے محتاج ہو جانے کی شرمندگی، اور ہر وقت کا جسمانی درد انسان کے اعصاب کو چھیل کر رکھ دیتا ہے۔ وہ اپنے اندر کے خوف اور بے بسی کو غصے اور ضد کی شکل میں باہر نکالتے ہیں۔
چڑچڑے پن کے 5 اہم طبی اسباب
غصے کو محض بد مزاجی نہ سمجھیں بلکہ ان وجوہات کی جانچ کریں:
- پیشاب کی نالی کا خاموش انفیکشن (UTI) بزرگوں میں اچانک شدید غصہ اور ہذیان پیدا کرتا ہے۔
- جوڑوں یا ریڑھ کی ہڈی کا دائمی درد جس سے وہ رات بھر سو نہیں پاتے۔
- شوگر کا بار بار گرنا یا بلڈ پریشر کا ہائی ہونا۔
- الزائمر اور ڈیمنشیا کا ابتدائی مرحلہ جس میں چیزیں یاد نہ آنے پر وہ جھنجھلا جاتے ہیں۔
- قبض یا معدے کی گیس جو اعصاب پر بوجھ ڈالتی ہے۔
اولاد کے لیے ردِ عمل کے سنہری اصول
جب والد یا والدہ غصے میں ہوں تو آپ کا رویہ کیسا ہونا چاہیے:
- کبھی ان کے غصے کا جواب ترنت ترکی یا دلیل بازی سے نہ دیں؛ اس وقت خاموش رہنا سب سے بڑی نیکی ہے۔
- ان سے یہ نہ کہیں کہ 'آپ بچے بن گئے ہیں'، کیونکہ یہ جملہ ان کی عزتِ نفس پر تازیانہ بنتا ہے۔
- ان کی شکایت کو توجہ سے سنیں اور کہیں: 'امی جی/ابو جی، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، میں ابھی دیکھتا ہوں'۔
- کمرے کا درجہ حرارت اور ماحول بدلیں اور نرمی سے ان کے سر پر ہاتھ پھیریں۔
دوا کھانے سے انکار کی ضد کا حل
اگر وہ دوا کھانے یا نہانے کی ضد کریں تو زبردستی کرنے کے بجائے تھوڑی دیر بعد کسی اور پسندیدہ فیملی ممبر (مثلاً پوتی یا من پسند بیٹے) کے ذریعے پیار سے چائے کے ساتھ دوا پیش کروائیں۔
