اگر کل کو کوئی دیو قامت شہابیہ زمین سے ٹکرا جائے، سارے سمندر ابل پڑیں اور ایٹمی جنگ کے شعلے ہر جاندار کو راکھ کر دیں، تب بھی روئے زمین پر ایک ایسی مخلوق باقی بچے گی جس پر ان تباہیوں کا رتی برابر اثر نہیں ہو گا۔ اس مخلوق کا نام ٹارڈیگریڈ (Tardigrade) ہے جسے پیار سے «واٹر بیئر» (Water Bear) یعنی آبی ریچھ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خوردبینی جاندار بلاشبہ حیاتیات کی تاریخ کا سب سے ناقابلِ تسخیر سپاہی ہے۔
کرپٹو بایوسس: موت کو شکست دینے کی سائنسی حالت
ٹارڈیگریڈ کا سب سے بڑا معجزہ اس کا دفاعی نظام ہے جسے «کرپٹو بایوسس» (Cryptobiosis) یا ٹن اسٹیٹ (Tun State) کہا جاتا ہے۔ جب خشک سالی یا شدید سردی آتی ہے تو یہ اپنے آٹھ پیروں کو اندر سمیٹ کر ایک گیند جیسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس دوران یہ اپنے جسم کا سارا پانی خارج کر دیتا ہے اور میٹابولزم کی رفتار کو عام سطح کے 0.01 فیصد پر لے آتا ہے، یعنی عملی طور پر یہ مکمل مردہ دکھائی دیتا ہے۔ اس حالت میں یہ 30 سال تک بغیر خوراک اور پانی کے پڑا رہ سکتا ہے اور پانی کا پہلا قطرہ چھوتے ہی چند منٹوں میں دوبارہ رینگنے لگتا ہے۔
شدید تابکاری اور دباؤ کی مدافعت
انسانی جسم 5 سے 10 گرے (Gy) تابکاری میں ہلاک ہو جاتا ہے، جبکہ ٹارڈیگریڈ 5,000 گرے تابکاری کو ہنس کر جھیل جاتا ہے۔ اس کے خلیات کے اندر ایک خاص پروٹین ہوتا ہے جسے «Dsup» (Damage Suppressor) کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹین ڈی این اے کے گرد حفاظتی ڈھال بنا لیتا ہے جس سے ایکس رے اور ایٹمی تابکاری اس کے جینز کو توڑ نہیں پاتی۔ سائنسدان اب اس پروٹین پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ کینسر کے مریضوں کے صحتمند خلیات کو ریڈی ایشن سے بچایا جا سکے۔
«ماریانا ٹرینچ کی تہہ میں سمندر کا دباؤ سطح زمین سے ایک ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے جو فولادی آبدوز کو پچکا سکتا ہے، لیکن ٹارڈیگریڈ اس سے 6 گنا زیادہ دباؤ میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔»
زمین سے چاند تک کا سفر
2019ء میں اسرائیل کا ایک خلائی لینڈر «بیریشیٹ» چاند پر حادثے کا شکار ہو کر گر گیا تھا۔ اس جہاز پر ہزاروں منجمد ٹارڈیگریڈز موجود تھے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ چاند کی بنجر سطح اور منفی درجہ حرارت پر بھی وہ ٹارڈیگریڈز محفوظ حالت میں پڑے ہوں گے اور اگر انہیں واپس لا کر پانی دیا جائے تو وہ دوبارہ زندہ ہو سکتے ہیں۔