پرندوں کی دنیا میں عقاب اور شاہین کو جو وقار، جاہ و جلال اور خود مختاری حاصل ہے، وہ کسی دوسرے جاندار کے حصے میں نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے نوجوانوں کی خودداری، ہمت اور بلند پروازی کو جگانے کے لیے ہمیشہ "شاہین" کا استعارہ استعمال فرمایا۔
حیرت انگیز بصارت — دوربین آنکھیں
عقاب کی آنکھیں قدرت کا ایک عظیم سائنسی شاہکار ہیں۔ اس کی آنکھ کا سائز اس کے دماغ سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ عقاب میں بصارت کا دائرہ 340 ڈگری ہوتا ہے اور اس کے ریٹینا میں روشنی کے خلیات انسانوں سے پانچ گنا زیادہ کثیف ہوتے ہیں۔ یہ پرندہ آسمان کی بلندیوں پر تیرتے ہوئے زمین پر گھاس کے اندر رینگنے والے چھوٹے سے چوہے یا چٹان پر بیٹھی لومڑی کو شفافیت کے ساتھ دیکھ لیتا ہے۔
شکار کا انداز اور فولادی پنجے
عقاب کے پنجوں کو "Talons" کہا جاتا ہے، جن کی گرفت اتنی خوفناک ہوتی ہے کہ اس کی طاقت تقریباً 400 پاؤنڈ فی مربع انچ (PSI) تک جا پہنچتی ہے، جو ایک بڑے کتے یا بھیڑئے کے جبڑے کی گرفت سے بھی زیادہ ہے۔
- جھپٹنے کا کمال: جب عقاب فضا سے غوطہ لگاتا ہے تو اپنے پروں کو جسم کے ساتھ سمیٹ لیتا ہے اور اس کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر جاتی ہے۔
- پہاڑی شکار: وسطی ایشیاء اور پاکستان کے شمالی علاقوں (ہنزہ و گلگت) میں گولڈن ایگل پہاڑی بکروں اور لومڑیوں کا باآسانی شکار کر لیتا ہے۔
طوفانوں کا مقابلہ
عام پرندے جب طوفان اور گرج چمک دیکھتے ہیں تو اپنے گھونسلوں یا درختوں کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں، لیکن شاہین واحد پرندہ ہے جو طوفانی ہواؤں کے دباؤ کو اپنے طاقتور پروں کے زاویے سے استعمال کرتا ہے اور طوفان کو چیرتا ہوا بادلوں سے بھی اوپر نکل جاتا ہے جہاں بالکل پرسکون فضا ہوتی ہے۔
"نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں" — علامہ اقبال
گھونسلہ سازی اور وفاداری
عقاب اپنی پوری زندگی میں صرف ایک شریکِ حیات (Mate for Life) منتخب کرتا ہے۔ یہ اپنا گھونسلہ پہاڑوں کی بلند ترین اور ناقابلِ رسائی چٹانوں پر بناتے ہیں جنہیں "Eyrie" کہا جاتا ہے۔ یہ گھونسلے سالہا سال استعمال ہوتے ہیں اور ان کا وزن لکڑیوں اور پتھروں کے جمع ہونے سے سینکڑوں کلوگرام تک پہنچ جاتا ہے۔