جب ہم زمین پر بسنے والی سب سے بڑی مخلوق کا تصور کرتے ہیں تو اکثر ذہن میں ڈائنوسارز کا خیال آتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا سب سے بڑا ڈائنوسار بھی موجودہ دور کی "نیلی وہیل" (Blue Whale) کے سامنے ایک بونا جاندار تھا۔ نیلی وہیل روئے زمین پر زندگی کے آغاز سے لے کر آج تک وجود میں آنے والی سب سے بھاری اور لمبی ترین مخلوق ہے۔
دیو قامت جسامت اور حیرت انگیز اعضاء
ایک بالغ نیلی وہیل کی لمبائی تقریباً 100 فٹ (30 میٹر) اور وزن 180 سے 200 ٹن تک ہو سکتا ہے، جو کہ تقریباً 33 افریقی ہاتھیوں یا 2500 عام انسانوں کے برابر ہے۔ اس کے خون کی شریانیں (Arteries) اتنی کشادہ ہوتی ہیں کہ ایک چھوٹا بچہ ان کے اندر باآسانی تیر سکتا ہے۔ اس کا دل ایک عام فیملی کار (مثلاً وولکس ویگن بیٹل) کے حجم کا ہوتا ہے اور اس کا وزن تقریباً 600 کلوگرام ہوتا ہے۔
خوراک اور شکار کا طریقہ (Baleen System)
اتنی دیوہیکل جسامت کے باوجود نیلی وہیل انسانوں یا بڑی مچھلیوں کا شکار نہیں کرتی، بلکہ اس کی خوراک سمندر کے سب سے ننھے جاندار "کرل" (Krill) پر مشتمل ہوتی ہے جو کیڑے اور جھینگے سے مشابہ ہوتے ہیں۔
- دانتوں کے بغیر فلٹریشن: نیلی وہیل کے منہ میں دانت نہیں ہوتے بلکہ ناخن کی طرح لچکدار مادے "بالین" (Baleen) کی پلیٹیں لگی ہوتی ہیں۔
- پانی اگلنا: یہ ایک ہی لقمے میں ہزاروں گیلن پانی منہ میں بھرتی ہے اور پھر زبان کے دباؤ سے پانی کو باہر دھکیل کر لاکھوں کرل اپنے حلق میں اتار لیتی ہے۔
- روزانہ کی خوراک: گرمیوں کے موسم میں ایک بالغ وہیل روزانہ تقریباً 4 ٹن (4000 کلوگرام) کرل کھا جاتی ہے۔
سمندر کے اندر رابطہ اور گیت
نیلی وہیلز آپس میں رابطہ کرنے کے لیے انتہائی پست فریکوئنسی والی آوازیں (Low-frequency pulses) پیدا کرتی ہیں جنہیں وہیل کے "گیت" کہا جاتا ہے۔ ان کی آواز کی شدت 188 ڈیسی بل تک پہنچتی ہے، جو خلا بازوں کے راکٹ لانچ کے شور سے بھی زیادہ ہے۔ یہ آوازیں سمندر کی لہروں میں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دوسری وہیلز تک پہنچتی ہیں۔
"نیلی وہیل کا نومولود بچہ روزانہ اپنی ماں کا 400 لیٹر دودھ پیتا ہے اور ہر 24 گھنٹے میں اس کے وزن میں 90 کلوگرام کا ناقابل یقین اضافہ ہوتا ہے۔"
تحفظ کی صورتحال (Conservation)
بیسویں صدی کے آغاز میں تجارتی شکار (Whaling) کے باعث نیلی وہیل کی آبادی 99 فیصد تک ختم ہو گئی تھی اور صرف چند ہزار وہیلز باقی رہ گئی تھیں۔ 1966ء میں بین الاقوامی سطح پر اس کے شکار پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔ اگرچہ اب ان کی تعداد میں معمولی اضافہ ہو رہا ہے مگر بحری جہازوں کے تصادم اور سمندری آلودگی کے سبب یہ تاحال خطرے میں ہیں۔