منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی ہڈیوں کو جما دینے والی خونخوار ہوائیں، چہار سو پھیلی ہوئی برف کی چادریں اور میلوں تک جمی ہوئی جھیلیں — یہ ہے قطبی ریچھ (Polar Bear) کا مسکن۔ قطبی ریچھ زمین پر بسنے والا سب سے بڑا گوشت خور درندہ ہے، جس کے سامنے عام بھورے ریچھ بھی چھوٹے نظر آتے ہیں۔
قدرتی تھرمل سوٹ: سردی سے بچاؤ
قطبی ریچھ کے جسم پر چربی کی 4 انچ موٹی تہہ (Blubber) ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کھال پر واٹر پروف بالوں کی دوہری تہہ لگی ہوتی ہے۔ یہ تھرمل سسٹم اتنا موثر ہے کہ انفراریڈ کیمرے میں بھی قطبی ریچھ کی حرارت باہر نکلتی دکھائی نہیں دیتی، یعنی اس کے جسم سے ایک فیصد حرارت بھی ضائع نہیں ہوتی۔
سونگھنے کی ماورائی حس
قطبی ریچھ کی سونگھنے کی حس کتے سے بھی کہیں زیادہ قوی ہوتی ہے۔ یہ 30 کلومیٹر دور موجود سیل مچھلی کی بو سونگھ سکتا ہے۔ جب سیل مچھلی سانس لینے کے لیے برف میں موجود کسی سوراخ پر آتی ہے تو قطبی ریچھ گھنٹوں تک خاموش مجسمہ بن کر اس کا انتظار کرتا ہے اور ایک ہی جھپٹے میں وزنی سیل کو برف سے باہر کھینچ لیتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کا المیہ
گلوبل وارمنگ اور آرکٹک گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث قطبی ریچھ کے شکار کی جگہیں تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ اب طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہیں جس سے ان کی بقاء شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔