عالمِ حیوانات ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ غیر محفوظ (Vulnerable - گلیشیئر پگھلنے کے سبب)

قطبی ریچھ — آرکٹک کی برفیلی سلطنت کا بے خوف شکاری

سائنسی نام: Ursus maritimus

جس کے بال سفید نہیں بلکہ شفاف شیشے کی مانند ہیں اور کھال سیاہ — منفی 50 ڈگری میں زندہ رہنے والا دیو

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ قطبی ریچھ کی کھال درحقیقت سفید نہیں بلکہ بالکل سیاہ (Jet Black) ہوتی ہے تاکہ وہ سورج کی دھوپ کو زیادہ سے زیادہ جذب کر سکے۔
  • ✦ اس کے بال شفاف اور کھوکھلے ہوتے ہیں جو روشنی کو منعکس کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہمیں دودھیا سفید نظر آتا ہے۔
  • ✦ قطبی ریچھ بغیر رکے مسلسل 100 کلومیٹر سے زیادہ تیر سکتا ہے اور 1 کلومیٹر گہری برف کے نیچے موجود مچھلی کی بو سونگھ لیتا ہے۔

منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی ہڈیوں کو جما دینے والی خونخوار ہوائیں، چہار سو پھیلی ہوئی برف کی چادریں اور میلوں تک جمی ہوئی جھیلیں — یہ ہے قطبی ریچھ (Polar Bear) کا مسکن۔ قطبی ریچھ زمین پر بسنے والا سب سے بڑا گوشت خور درندہ ہے، جس کے سامنے عام بھورے ریچھ بھی چھوٹے نظر آتے ہیں۔

قدرتی تھرمل سوٹ: سردی سے بچاؤ

قطبی ریچھ کے جسم پر چربی کی 4 انچ موٹی تہہ (Blubber) ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کھال پر واٹر پروف بالوں کی دوہری تہہ لگی ہوتی ہے۔ یہ تھرمل سسٹم اتنا موثر ہے کہ انفراریڈ کیمرے میں بھی قطبی ریچھ کی حرارت باہر نکلتی دکھائی نہیں دیتی، یعنی اس کے جسم سے ایک فیصد حرارت بھی ضائع نہیں ہوتی۔

سونگھنے کی ماورائی حس

قطبی ریچھ کی سونگھنے کی حس کتے سے بھی کہیں زیادہ قوی ہوتی ہے۔ یہ 30 کلومیٹر دور موجود سیل مچھلی کی بو سونگھ سکتا ہے۔ جب سیل مچھلی سانس لینے کے لیے برف میں موجود کسی سوراخ پر آتی ہے تو قطبی ریچھ گھنٹوں تک خاموش مجسمہ بن کر اس کا انتظار کرتا ہے اور ایک ہی جھپٹے میں وزنی سیل کو برف سے باہر کھینچ لیتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کا المیہ

گلوبل وارمنگ اور آرکٹک گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث قطبی ریچھ کے شکار کی جگہیں تباہ ہو رہی ہیں۔ یہ اب طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہیں جس سے ان کی بقاء شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: