اگر قدرت کے عجائبات کا کوئی ایک مجسمہ بنانا ہو جس میں مچھلی، پرندے، رینگنے والے جانور اور پستانیہ کے تمام اوصاف ایک ہی وجود میں جمع کر دیے جائیں تو وہ آسٹریلیا کا بتخ چونچا یعنی پلیٹی پس (Platypus) ہو گا۔ جب یورپی سائنسدانوں نے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں اس جانور کو پہلی بار دیکھا تو انہوں نے اسے سائنس کے ساتھ ایک بددیانت مذاق قرار دیا تھا، کیونکہ اس کی ساخت قدرت کے تمام روایتی اصولوں کو چیلنج کرتی ہے۔
تین دنیاؤں کا انوکھا سنگم
پلیٹی پس کی ظاہری شکل پر غور کریں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں:
- بتخ جیسی چونچ: اس کی چونچ پرندوں کی طرح سخت لکڑی جیسی نہیں بلکہ نرم، لچکدار چمڑے کی طرح ہوتی ہے جس میں لاکھوں برقی سینسرز جڑے ہوتے ہیں۔
- اودبلاؤ جیسی دم اور فر: اس کی دم ایک پیڈل کی طرح ہوتی ہے جس میں چربی کا ذخیرہ ہوتا ہے، جبکہ اس کی کھال قطبی ریچھ کی طرح پانی کو اندر داخل نہیں ہونے دیتی۔
- پانی کے پردے والے پنجے: اس کے پنجوں کے درمیان جھلی ہوتی ہے جو تیرتے وقت فلیپرز کا کام کرتی ہے اور خشکی پر چلتے ہوئے اندر سمٹ جاتی ہے تاکہ ناخن مٹی کھود سکیں۔
آنکھیں بند کر کے شکار تلاش کرنے والی جادوئی چونچ
پلیٹی پس جب ندی میں غوطہ لگاتا ہے تو پانی کے اندر اس کی آنکھیں، کان اور نتھنے مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گدلے پانی کی تہہ میں شکار کیسے ڈھونڈتا ہے؟ اس کا جواب اس کی چونچ میں چھپا «الیکٹرو ریسیپشن» کا نظام ہے۔ پانی کی تہہ میں چھپے کیڑے یا جھینگے کی دم کی ہلکی سی لرزش سے پیدا ہونے والے برقی میدان کو یہ اپنی چونچ سے فوری بھانپ لیتا ہے۔
«پلیٹی پس کی مادہ کے دودھ پینے کے لیے تھن نہیں ہوتے، بلکہ اس کے پیٹ کی کھال کے مساموں سے دودھ پسینے کی طرح خارج ہوتا ہے جسے اس کے بچے چاٹ کر پیتے ہیں۔»
الٹرا وائلٹ روشنی میں نیلا چمکنا (Biofluorescence)
2020ء کی جدید سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ جب پلیٹی پس کی کھال پر کالی بالائے بنفشی (UV) روشنی ڈالی جائے تو یہ اندھیرے میں چمکدار سبز اور نیلی روشنی خارج کرنے لگتا ہے۔ سائنسدان آج تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ رات کے وقت سرگرم رہنے والے اس جاندار کو یہ نیون گلو دینے کا قدرت کا مقصد کیا تھا۔