جب فضاؤں میں مطلق رفتار اور شکاری مہارت کا ذکر آتا ہے تو دنیا کے تمام پرندے بحری شاہین (Peregrine Falcon) کے سامنے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔ یہ اقبال کا وہی «شاہین» ہے جس کی پرواز بلندیوں کو چیرتی ہے۔ جدید جی پی ایس سینسرز اور ہوابازی کے تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ بحری شاہین شکار پر جھپٹتے وقت 389 کلومیٹر فی گھنٹہ (242 میل فی گھنٹہ) کی ہوش ربا رفتار حاصل کر لیتا ہے، یعنی یہ کائنات کا تیز ترین گوشت پوست والا جاندار ہے۔
جیٹ طیارے کے انجن جیسی ایروڈائنامک ساخت
عام طور پر اگر کوئی پرندہ اتنی تیز رفتار سے ہوا میں غوطہ لگائے تو ہوا کے خوفناک دباؤ سے اس کے پھیپھڑے پھٹ جائیں۔ لیکن خالقِ کائنات نے شاہین کی ناک کے اندر چھوٹے نوکیلے شنک نما ہڈی کے ٹکڑے رکھے ہیں۔ جب شاہین ڈائیو لگاتا ہے تو یہ ہوا کے جھکڑوں کو دھیما کر کے اس کے پھیپھڑوں میں متوازن طریقے سے داخل کرتے ہیں۔ ہوابازی کے انجینئرز نے جدید ترین جیٹ لڑاکا طیاروں کے انجن کے ایئر انٹیک اسی شاہین کی ناک کو دیکھ کر ڈیزائن کیے ہیں۔
فضا میں بمباری جیسی قاتلانہ جھپٹ
شاہین اپنے شکار کو فضا میں میلوں بلندی سے دیکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد یہ اپنے پروں کو جسم کے ساتھ چپکا کر ایک تیکھے تیر کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور کشش ثقل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آسمان سے زمین کی طرف سیدھا نیچے جھپٹتا ہے۔ اس حرکت کو ماہرینِ حیوانات «اسٹوپ» (Stoop) کہتے ہیں۔ نیچے پہنچ کر یہ شکار کو پکڑتا نہیں بلکہ اپنے آدھے بند پنجے کی مکا نما ضرب سے اڑتے ہوئے پرندے کی گردن یا پر ایک جھٹکے میں توڑ دیتا ہے۔
«علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین کی خودداری، بلندی اور درویشانہ زندگی سے تشبیہ دی کیونکہ شاہین نہ آشیانہ بناتا ہے اور نہ دوسرے کا مارا ہوا شکار کھاتا ہے۔»
دور رس بصارت اور تیز فوکس
شاہین کی آنکھیں انسان سے 8 گنا زیادہ طاقتور ہیں۔ یہ 3 کلومیٹر (تقریباً دو میل) کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے گھاس میں حرکت کرتے ہوئے ایک ننھے کبوتر یا چڑیا کو واضح دیکھ سکتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے ارد گرد سیاہ لکیریں دھوپ کی چکاچوند کو روکتی ہیں جس کی بدولت یہ سورج کی سیدھ میں بھی اپنے شکار پر نظریں جمائے رکھتا ہے۔