پاکستان کا باوقار قومی جانور مارخور (Markhor) دنیا بھر کے تمام جنگلی بکروں میں سب سے زیادہ خوبصورت، رعب دار اور متاثر کن شخصیت کا مالک ہے۔ اس کے سر پر موجود شاندار، پیچ دار اور بل کھاتے ہوئے دیو قامت سینگ کسی بادشاہ کے تاج کی طرح چمکتے ہیں۔ مارخور پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں کا وہ نڈر باسی ہے جو موت کی وادیوں جیسی عمودی کھائیوں پر ایسے پھرتی سے ناچتا ہے جیسے فرش پر چہل قدمی کر رہا ہو۔
نام کی تاریخی اور اساطیری حقیقت
لفظ مارخور کے معنی «سانپ کھانے والا» ہیں۔ قدیم لوک داستانوں میں مشہور ہے کہ مارخور پہاڑوں میں زہریلے سانپوں کو اپنے کھروں سے کچل کر کھا جاتا ہے، جس کے بعد اس کے منہ سے جو خاص جھاگ نکلتی ہے وہ خشک ہو کر تریاق (زہر کا توڑ) بن جاتی ہے جسے مقامی لوگ سانپ کے ڈسے کے علاج کے لیے تلاش کرتے تھے۔ جدید سائنس اگرچہ اس کی بنیادی غذا گھاس اور پودے بتاتی ہے، لیکن خطرناک علاقوں میں اپنی بقا کے لیے اس کی بہادری ضرب المثل ہے۔
ساکھ اور جسمانی وقار
نر مارخور کے گلے اور سینے پر سفید اور سرمئی بالوں کی ایک طویل داڑھی ہوتی ہے جو ہوا کے دوش پر لہراتی ہوئی اسے کسی قدیم درویش یا پہاڑی سلطان کا روپ بخشتی ہے۔ اس کے کھر درمیان سے دو لخت اور لچکدار ہوتے ہیں جو چٹانوں کے کناروں کو چمٹے کی طرح جکڑ لیتے ہیں۔ یہ صلاحیت اسے شکاری برفانی چیتے اور بھیڑیوں سے بچنے کے لیے سیدھی دیوار جیسی چٹانوں پر چڑھ جانے میں مدد دیتی ہے۔
«مارخور پاکستان کی ثقافت، ہمت اور پہاڑی وقار کی علامت ہے اور ملک کی سب سے معتبر انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی (ISI) کے سرکاری مونوگرام پر بھی براجمان ہے۔»
کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کی عالمی کامیابی
نوے کی دہائی میں غیر قانونی شکار کی وجہ سے مارخور کی نسل معدومی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ تب پاکستان نے مقامی آبادیوں کے اشتراک سے «کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام» شروع کیا۔ اس ماڈل کے تحت ملنے والے فنڈز کا 80 فیصد حصہ مقامی قبائل کو دیا گیا جنہوں نے خود مارخور کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا۔ آج چترال، گلگت اور کوہستان میں مارخور کی آبادی ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جسے دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کی سب سے کامیاب کہانی مانا جاتا ہے۔