انڈونیشیا کے چند دور دراز اور ویران جزائر پر جب قدم رکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان ٹائم مشین میں بیٹھ کر کروڑوں سال پیچھے جراسک دور کے ڈائنوسارز کی دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ کوموڈو ڈریگن (Komodo Dragon) دنیا کی سب سے بڑی، سب سے وزنی اور سب سے خطرناک چھپکلی ہے۔ اپنے پیلے رنگ کی سانپ جیسی لہراتی زبان اور فولادی زرہ بکتر جیسے کھردری کھال کے ساتھ یہ قدیم ریپٹائل جزائر کا مطلق العنان بادشاہ ہے۔
شکاری آری اور زہر کا مہلک مرکب
کوموڈو ڈریگن کے منہ میں 60 عدد پیچھے کی طرف مڑے ہوئے آری نما دانت ہوتے ہیں جو گوشت کو کاٹنے کے لیے شارک کے دانتوں جیسے ہوتے ہیں۔ جب یہ کسی بڑی بھینس یا ہرن کو کاٹتا ہے تو اس کے نچلے جبڑے سے نکلنے والا زہر زخم میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ زہر اینٹی کوگولنٹ (خون کو جمنے نہ دینے والا) ہوتا ہے جس سے شکار کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے، پٹھے شل ہو جاتے ہیں اور مسلسل خون بہنے سے شکار چند گھنٹوں میں گر جاتا ہے۔
9 کلومیٹر دور سے ہوا میں بو سونگھنا
کوموڈو ڈریگن کی بینائی اگرچہ 300 میٹر تک ٹھیک ہوتی ہے، لیکن اس کا بنیادی ہتھیار اس کی لمبی، پیلے رنگ کی دو شاخہ زبان ہے۔ یہ زبان کو بار بار باہر نکال کر ہوا میں موجود کیمیائی ذرات کو جمع کرتی ہے اور تالو میں موجود «جیکوبسن آرگن» تک پہنچاتی ہے۔ اس حس کی مدد سے یہ 9 کلومیٹر (ساڑھے پانچ میل) کے فاصلے سے کسی مرے ہوئے جانور یا زخمی شکار کی بو سونگھ کر سیدھا اس کی طرف چل پڑتی ہے۔
«کوموڈو ڈریگن اپنے لچکدار جبڑوں اور گلے کے پھیلنے والے مسلز کی مدد سے اپنے کل جسمانی وزن کا 80 فیصد وزن چند منٹوں میں ہڑپ کر جاتی ہے۔»
بغیر نر کے ماں بننے کی معجزاتی صلاحیت
کوموڈو ڈریگن کی مادہ کے اندر ایک نایاب حیاتیاتی صلاحیت موجود ہے جسے سائنس میں «Parthenogenesis» کہتے ہیں۔ اگر جزیرے پر کوئی نر موجود نہ ہو، تب بھی مادہ اکیلے ایسے انڈے تیار کر سکتی ہے جن سے صحتمند بچے پیدا ہوتے ہیں۔ فطرت نے یہ خودکار نظام اس لیے رکھا ہے تاکہ تنہا جزائر پر طوفان کی صورت میں اگر صرف ایک مادہ بھی بچ جائے تو وہ اپنی نئی آبادی خود قائم کر سکے۔