خوف اور جلال کی علامت "کنگ کوبرا" (King Cobra) دنیا کے زہریلے سانپوں کا بلا شرکتِ غیرے بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام "Ophiophagus" ہے، جس کا یونانی زبان میں لفظی مطلب "سانپ کھانے والا" ہے۔ 18 فٹ لمبا یہ درندہ جب اپنا پھن پھیلا کر فضا میں تین سے چار فٹ بلند ہوتا ہے تو جنگل کا بڑے سے بڑا جانور بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
دیو قامت جسامت اور ڈنک کی ہلاکت خیزی
کنگ کوبرا زہر کی شدت کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے مہلک ترین سانپ نہ ہو (یہ اعزاز انلینڈ تائیپان کے پاس ہے)، لیکن یہ اپنے شکار کے جسم میں زہر کی جو مقدار انڈیلتا ہے وہ ناقابلِ تصور ہے۔ ایک ہی ڈنک میں یہ 500 سے 700 ملی گرام نیوروٹوکسن (Neurotoxin) زہر چھوڑ سکتا ہے، جو کہ 20 بالغ انسانوں یا ایک مکمل ایشیائی ہاتھی کے اعصابی اور سانس کے نظام کو چند گھنٹوں میں بند کرنے کے لیے کافی ہے۔
سانپوں کی دنیا کا واحد انجینئر: گھونسلا بنانے کی صلاحیت
عام طور پر سانپ انڈے دے کر زمین کی دراڑوں میں چھوڑ دیتے ہیں، مگر کنگ کوبرا کی مادہ دنیا کی واحد سانپ ہے جو باقاعدہ گھونسلا بناتی ہے:
- پتوں کا ڈھیر: مادہ کوبرا اپنے جسم کے لچھوں کی مدد سے جنگل کے گرے ہوئے پتوں کو سمیٹ کر دو سے تین فٹ اونچا گھونسلا تیار کرتی ہے۔
- انکیوبیشن ہیٹ: پتے سڑنے سے جو قدرتی حرارت پیدا ہوتی ہے اس سے انڈے قدرتی طور پر گرم رہتے ہیں۔
- سخت پہرہ: مادہ انڈے نکلنے تک دو ماہ تک بغیر کچھ کھائے پئے گھونسلے پر کنڈلی مار کر پہرہ دیتی ہے۔
"جب کنگ کوبرا غصے میں آتا ہے تو عام سانپوں کی طرح پھنکارتا نہیں بلکہ کتے کے بھونکنے جیسی گہری پست فریکوئنسی والی گھن گرج (Growl) نکالتا ہے۔"
دیگر سانپوں کا خوفناک شکاری
کنگ کوبرا چوہوں اور پرندوں کے پیچھے وقت ضائع کرنے کے بجائے جنگل کے دیگر سانپوں، جیسے عام کوبرا، کالا سانپ، اور پائتھن کا شکار کرتا ہے۔ اس کے جسم میں دیگر سانپوں کے زہر کے خلاف قدرتی مدافعتی اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دوسرا زہریلا سانپ بھی اسے ڈس کر ہلاک نہیں کر سکتا۔