شہد کی مکھی کائنات کی ان چند حقیر سی نظر آنے والی مگر عظیم ترین مخلوقات میں سے ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا وجود ناممکن ہو جائے گا۔ مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن سے منسوب ایک قول کے مطابق اگر زمین سے شہد کی مکھی کا وجود ختم ہو جائے تو چار سال کے اندر انسان ناپید ہو جائیں گے، کیونکہ ہماری ایک تہائی غذائی فصلیں مکھیوں کے ذریعے عملِ زیرگی (Pollination) کی مرہونِ منت ہیں۔
چھ کونوں والی ریاضیاتی عمارت (Hexagonal Comb)
شہد کا چھتہ ارضیاتی ریاضی اور انجینئرنگ کا ایک معجزہ ہے۔ مکھیاں چھتے کے خانے دائرے، چوکور یا تکون کے بجائے ہمیشہ "چھ کونوں" (Hexagon) والے بناتی ہیں۔ ریاضیاتی لحاظ سے مسدس (Hexagon) وہ واحد شکل ہے جو کم سے کم موم (Wax) کے خرچ پر بغیر کسی خالی جگہ کے سب سے زیادہ شہد ذخیرہ کرنے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔
ویگل ڈانس: رقص کے ذریعے گفتگو
جب کوئی کھوجی مکھی پھولوں کے کسی نئے باغ کا پتا چلاتی ہے تو وہ چھتے پر آ کر باقی مکھیوں کو بتانے کے لیے ایک خاص قسم کا رقص کرتی ہے جسے "Waggle Dance" کہا جاتا ہے۔ مکھی اس رقص کے زاویے سے سورج کی پوزیشن، اور پیٹ کے ہلانے کی رفتار سے پھولوں کے فاصلے کی نشاندہی 100 فیصد درستگی سے کرتی ہے۔
قرآنی معجزہ اور شفائی خصوصیات
قرآن پاک کی سورۃ النحل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ان کے پیٹوں سے ایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ جدید طب نے ثابت کیا ہے کہ خالص شہد میں طاقتور جراثیم کش (Antibacterial)، اینٹی آکسیڈینٹ اور زخموں کو مندمل کرنے والے قدرتی عناصر موجود ہوتے ہیں۔