نیلے سمندر کی تاریک گہرائیوں میں اگر کوئی ایک سلہوٹ ملاحوں اور آبی مخلوقات کے دلوں میں سب سے زیادہ سنسنی پیدا کرتا ہے تو وہ گریٹ وائٹ شارک (Great White Shark) ہے۔ 20 فٹ لمبی اور ڈھائی ٹن وزنی یہ مچھلی کروڑوں سال کے ارتقاء کا ایسا بے خطا اور مکمل شکاری ہے جس کے ڈیزائن میں فطرت کو پچھلے ایک کروڑ سال میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
چھٹی حس: دل کی دھڑکن پکڑنے والے برقی ریسیپٹرز
گریٹ وائٹ شارک صرف آنکھوں یا ناک سے شکار نہیں کرتی بلکہ اس کے پاس ایک مافوق الفطرت چھٹی حس ہے۔ اس کے چہرے پر جیلی سے بھری باریک ٹیوبز کا نیٹ ورک ہوتا ہے جسے حیاتیات میں «Ampullae of Lorenzini» کہا جاتا ہے۔ یہ نظام پانی میں ہونے والی کمزور ترین برقی تبدیلیوں کو بھی ناپ لیتا ہے۔ ریت کے نیچے چھپی ہوئی مچھلی کی ہلکی سی پٹھوں کی حرکت یا انسان کے دل کی دھڑکن کا معمولی کرنٹ بھی شارک کے ریڈار سے چھپ نہیں سکتا۔
سونگھنے کی ناقابلِ یقین طاقت
شارک کا دماغ بنیادی طور پر سونگھنے کے مراکز پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ اولمپک سائز کے سوئمنگ پول جیسے لاکھوں گیلن پانی میں خون کے ایک ننھے قطرے کی موجودگی کا سُراغ 5 کلومیٹر دور سے لگا سکتی ہے۔ جب یہ شکار کے قریب پہنچتی ہے تو نیچے سے ایک تارپیڈو میزائل کی طرح اوپر اٹھتی ہے اور 56 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پانی کی سطح کو پھاڑتی ہوئی 10 فٹ اونچی ہوا میں اڑان بھر کر شکار کو دبوچ لیتی ہے۔
«فلموں کے پروپیگنڈے کے برعکس، انسان شارک کی فطری خوراک نہیں ہیں۔ بیشتر حملے صرف اس غلط فہمی میں ہوتے ہیں کہ سرفنگ بورڈ پر تیرتا ہوا انسان نیچے سے سیل مچھلی جیسا دکھائی دیتا ہے۔»
گرم خون والی شارک (Endothermic)
زیادہ تر مچھلیاں سرد خون (Cold-blooded) کی ہوتی ہیں جن کے جسم کا درجہ حرارت ارد گرد کے پانی کے مطابق بدلتا ہے۔ لیکن گریٹ وائٹ شارک کے پاس خون کی نالیوں کا ایک خاص جال (Rete Mirabile) ہوتا ہے جو اس کے پیٹ اور عضلات کو باہر کے برفیلے پانی کے مقابلے میں 14 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم رکھتا ہے۔ یہی اندرونی گرمی اسے سرد سمندروں میں بھی بجلی جیسی تیزی اور چستی عطا کرتی ہے۔