سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں تیرنے والی ڈولفن درحقیقت مچھلی نہیں بلکہ انسانوں کی طرح پھیپھڑوں سے سانس لینے والی، دودھ پلانے والی (Mammal) مخلوق ہے۔ سائنس دان متفق ہیں کہ انسان اور چمپینزی کے بعد دنیا میں سب سے پیچیدہ اور ذہین دماغ ڈولفن کا ہوتا ہے۔
ایکٹو لوکیشن: قدرتی سونار سسٹم
ڈولفن کے ماتھے پر ایک خاص عضو ہوتا ہے جسے "میلن" (Melon) کہتے ہیں۔ یہ ماتھے سے اونچی فریکوئنسی والی آواز کی لہریں خارج کرتی ہے جو سامنے موجود اشیاء، مچھلیوں یا رکاوٹوں سے ٹکرا کر واپس اس کے نچلے جبڑے میں جذب ہوتی ہیں۔ اس سسٹم کے ذریعے ڈولفن گدلے ترین پانی میں بھی سامنے موجود چیز کی جسامت، ساخت اور دوری کا 100 فیصد درست تھری ڈی نقشہ دیکھ لیتی ہے۔
حیرت انگیز نیند — یونی ہیمسفیرک سلیپ
چونکہ ڈولفن کو ہر چند منٹ بعد سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آنا پڑتا ہے، اس لیے وہ انسانوں کی طرح مکمل بے ہوش ہو کر نہیں سو سکتی۔ قدرت نے اسے یہ انوکھا نظام دیا ہے کہ سوتے وقت اس کا صرف دایاں دماغ سوتا ہے جبکہ بایاں دماغ اور دائیں آنکھ جاگتی رہتی ہے، چند گھنٹوں بعد یہ سسٹم تبدیل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی نایاب انڈس ڈولفن (بھلن)
پاکستان کے دریائے سندھ میں پائی جانے والی انڈس ریور ڈولفن (جسے مقامی زبان میں "بھلن" کہا جاتا ہے) دنیا کی چند نایاب ترین میٹھے پانی کی ڈولفنز میں سے ہے۔ گدلے پانی کی وجہ سے ارتقائی طور پر یہ آنکھوں سے نابینا ہو چکی ہے اور اپنی بقاء کے لیے مکمل طور پر سونار لہروں پر انحصار کرتی ہے۔