عالمِ حیوانات ⏱️ مطالعہ کا وقت: 5 منٹ کم خطرہ (Least Concern)

الیکٹرک اییل — 860 وولٹ کا جان لیوا برقی جھٹکا پیدا کرنے والی زندہ بیٹری

سائنسی نام: Electrophorus voltai

تین قدرتی برقی اعضاء اور ہزاروں الیکٹروپلاکس خلیات کے ذریعے گھوڑے کو بھی بے ہوش کر دینے والا قدرت کا ہائی وولٹیج پاور ہاؤس

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ حال ہی میں دریافت ہونے والی نسل «الیکٹروفورس وولٹائی» 860 وولٹ کا کرنٹ پیدا کر سکتی ہے، جو گھر کی بجلی کے ساکٹ (220V) سے چار گنا زیادہ طاقتور جھٹکا ہے۔
  • ✦ نام میں «اییل» ہونے کے باوجود یہ حقیقی اییل نہیں ہے بلکہ چھری مچھلی (Knifefish) کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور ہوا سے آکسیجن لینے کے لیے ہر 10 منٹ بعد سطح پر آتی ہے۔
  • ✦ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ 1800ء میں سائنسدان الیسانڈرو وولٹا نے دنیا کی پہلی مصنوعی کیمیائی بیٹری الیکٹرک اییل کے جسمانی خلیات کی ساخت دیکھ کر ہی بنائی تھی!

ایمیزون کے دلدلی اور گدلے پانیوں میں تیرنے والی الیکٹرک اییل (Electric Eel) حیاتیاتی دنیا کا وہ ناقابلِ یقین معجزہ ہے جس نے بجلی کا استعمال انسان کی سائنسی دریافت سے لاکھوں سال پہلے شروع کر دیا تھا۔ یہ نہ صرف اپنی ذات میں ایک تیرتا ہوا پاور اسٹیشن ہے بلکہ اس کا 860 وولٹ کا خوفناک جھٹکا پانی میں موجود کسی بھی مگرمچھ، چیتے یا انسان کو فالج زدہ کر کے موت کی نیند سلا سکتا ہے۔

تین قدرتی جنریٹرز اور الیکٹرو سائٹس

الیکٹرک اییل کے جسم کا 80 فیصد حصہ اس کے اعضائے رئیسہ نہیں بلکہ برقی اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے اندر تین اہم برقی اعضاء ہوتے ہیں: مین آرگن، ہنٹرز آرگن اور سچس آرگن۔ ان اعضاء میں تقریباً 6,000 خاص خلیات ہوتے ہیں جنہیں «الیکٹرو سائٹس» (Electrocytes) کہتے ہیں۔ یہ خلیات منی ایچر بیٹریاں ہیں جن میں سوڈیم اور پوٹاشیم کے آئنز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جب اییل شکار پر حملہ کرتی ہے تو اس کا دماغ تمام خلیات کو ایک ساتھ آن کر دیتا ہے، جس سے ہزاروں بیٹریاں سیریز میں جڑ کر 860 وولٹ اور 1 ایمپیئر کا جان لیوا کرنٹ پیدا کر دیتی ہیں۔

برقی ریڈار کے ذریعے گدلے پانی میں راستہ بنانا

اییل صرف حملے کے لیے بجلی استعمال نہیں کرتی۔ کیونکہ ایمیزون کا پانی مٹی اور پودوں کی وجہ سے بالکل گدلا اور تاریک ہوتا ہے جہاں آنکھیں بیکار ہیں، اس لیے یہ اپنے چھوٹے عضو (Sachs organ) سے مسلسل 10 وولٹ کا ہلکا کرنٹ چھوڑتی رہتی ہے۔ یہ کرنٹ اس کے ارد گرد ایک برقی فیلڈ بنا دیتا ہے۔ جب بھی کوئی مچھلی یا رکاوٹ اس فیلڈ کو چھیڑتی ہے تو اییل کے جلد کے سینسرز کو فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ شکار کس رخ پر ہے۔

«الیکٹرک اییل کا حملہ اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں خارج ہونے والا کرنٹ شکار کے تمام پٹھوں کو جام کر دیتا ہے اور وہ تیرنے کے قابل نہیں رہتا۔»

اییل کو اپنا کرنٹ کیوں نہیں لگتا؟

ایک عام سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اییل اتنا خوفناک کرنٹ چھوڑتی ہے تو وہ خود کیوں نہیں مرتی؟ سائنسدانوں کے مطابق اس کے اہم اعضاء (دل، دماغ وغیرہ) اس کے سر کے بالکل قریب ایک چھوٹے سے محفوظ حصے میں ہوتے ہیں، اور اس کے جسم پر چربی اور موٹی کھال کی ایسی انسولیشن ہوتی ہے جو کرنٹ کو اس کے اپنے اندرونی بافتوں میں گھسنے نہیں دیتی بلکہ سارا کرنٹ باہر پانی میں پھیل جاتا ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: