ایمیزون کے دلدلی اور گدلے پانیوں میں تیرنے والی الیکٹرک اییل (Electric Eel) حیاتیاتی دنیا کا وہ ناقابلِ یقین معجزہ ہے جس نے بجلی کا استعمال انسان کی سائنسی دریافت سے لاکھوں سال پہلے شروع کر دیا تھا۔ یہ نہ صرف اپنی ذات میں ایک تیرتا ہوا پاور اسٹیشن ہے بلکہ اس کا 860 وولٹ کا خوفناک جھٹکا پانی میں موجود کسی بھی مگرمچھ، چیتے یا انسان کو فالج زدہ کر کے موت کی نیند سلا سکتا ہے۔
تین قدرتی جنریٹرز اور الیکٹرو سائٹس
الیکٹرک اییل کے جسم کا 80 فیصد حصہ اس کے اعضائے رئیسہ نہیں بلکہ برقی اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے اندر تین اہم برقی اعضاء ہوتے ہیں: مین آرگن، ہنٹرز آرگن اور سچس آرگن۔ ان اعضاء میں تقریباً 6,000 خاص خلیات ہوتے ہیں جنہیں «الیکٹرو سائٹس» (Electrocytes) کہتے ہیں۔ یہ خلیات منی ایچر بیٹریاں ہیں جن میں سوڈیم اور پوٹاشیم کے آئنز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جب اییل شکار پر حملہ کرتی ہے تو اس کا دماغ تمام خلیات کو ایک ساتھ آن کر دیتا ہے، جس سے ہزاروں بیٹریاں سیریز میں جڑ کر 860 وولٹ اور 1 ایمپیئر کا جان لیوا کرنٹ پیدا کر دیتی ہیں۔
برقی ریڈار کے ذریعے گدلے پانی میں راستہ بنانا
اییل صرف حملے کے لیے بجلی استعمال نہیں کرتی۔ کیونکہ ایمیزون کا پانی مٹی اور پودوں کی وجہ سے بالکل گدلا اور تاریک ہوتا ہے جہاں آنکھیں بیکار ہیں، اس لیے یہ اپنے چھوٹے عضو (Sachs organ) سے مسلسل 10 وولٹ کا ہلکا کرنٹ چھوڑتی رہتی ہے۔ یہ کرنٹ اس کے ارد گرد ایک برقی فیلڈ بنا دیتا ہے۔ جب بھی کوئی مچھلی یا رکاوٹ اس فیلڈ کو چھیڑتی ہے تو اییل کے جلد کے سینسرز کو فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ شکار کس رخ پر ہے۔
«الیکٹرک اییل کا حملہ اتنی تیزی سے ہوتا ہے کہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں خارج ہونے والا کرنٹ شکار کے تمام پٹھوں کو جام کر دیتا ہے اور وہ تیرنے کے قابل نہیں رہتا۔»
اییل کو اپنا کرنٹ کیوں نہیں لگتا؟
ایک عام سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اییل اتنا خوفناک کرنٹ چھوڑتی ہے تو وہ خود کیوں نہیں مرتی؟ سائنسدانوں کے مطابق اس کے اہم اعضاء (دل، دماغ وغیرہ) اس کے سر کے بالکل قریب ایک چھوٹے سے محفوظ حصے میں ہوتے ہیں، اور اس کے جسم پر چربی اور موٹی کھال کی ایسی انسولیشن ہوتی ہے جو کرنٹ کو اس کے اپنے اندرونی بافتوں میں گھسنے نہیں دیتی بلکہ سارا کرنٹ باہر پانی میں پھیل جاتا ہے۔