ایک گھنے اور خوبصورت جنگل میں ایک تیز رفتار خرگوش رہتا تھا۔ اسے اپنی تیز رفتاری پر بہت غرور تھا اور وہ جنگل کے تمام چھوٹے جانوروں کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔
خاص طور پر وہ دھیمی چال والے بوڑھے کچھوے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا: "ارے میاں کچھوے! تم اتنی سست رفتار سے چلتے ہو کہ ایک دن میں ایک میل بھی طے نہیں کر سکتے!”
ایک دن کچھوے نے مسکرا کر کہا: "تمہیں اپنی تیزی پر گھمنڈ ہے، آؤ میرے ساتھ پہاڑی کی چوٹی تک دوڑ لگا کر دیکھ لو کہ کون جیتتا ہے!”
خرگوش زور سے ہنسا اور بولا: "ہاہاہا! تم مجھ سے مقابلہ کرو گے؟ چلو منظور ہے!”
جنگل کے تمام جانور دوڑ دیکھنے جمع ہو گئے۔ لومڑی نے سیٹی بجائی اور دوڑ شروع ہو گئی۔
خرگوش ہوا کی رفتار سے بھاگا اور پلک جھپکتے ہی بہت آگے نکل گیا۔ جب وہ آدھے راستے پہنچا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کچھوا دور دور تک نظر نہیں آ رہا تھا۔
خرگوش نے سوچا: "کچھوا تو شام تک یہاں پہنچے گا، کیوں نہ میں اس گھنے پیڑ کے سائے میں تھوڑی دیر میٹھی نیند سو لوں!” وہ پیڑ کے نیچے لیٹا اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے گہری نیند سو گیا۔
دوسری طرف، کچھوا بغیر رکے، آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلتا رہا۔ وہ نہ کہیں رکا اور نہ ہی اس نے ہمت ہاری۔ وہ سوتے ہوئے خرگوش کے پاس سے گزرا اور پہاڑی کی فنش لائن پر پہنچ گیا۔
جب خرگوش کی آنکھ کھلی تو سورج ڈھل چکا تھا۔ وہ گھبرا کر پوری طاقت سے بھاگا، لیکن جب وہ چوٹی پر پہنچا تو دیکھا کہ کچھوا جیت کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور تمام جانور تالیاں بجا رہے تھے۔ خرگوش شرمندگی سے سر جھکا گیا۔