ایک گھنے جنگل کے کنارے سے ایک شفاف اور تیز بہاؤ والی ندی گزرتی تھی۔ ندی کے کنارے ایک گھنا پیپل کا درخت تھا جس کی شاخوں پر ایک خوبصورت سفید کبوتر کا گھونسلا تھا۔ کبوتر بہت معصوم اور نیک دل تھا۔
ایک گرم دن شہد کی ایک چھوٹی مکھی پھولوں کا رس چوستے چوستے ندی کے اوپر سے گزر رہی تھی کہ اچانک ہوا کے تیز جھونکے سے اس کا توازن بگڑا اور وہ ندی کے تیز بہتے پانی میں گر گئی۔ مکھی کے پر گیلے ہو گئے اور وہ ڈوبنے لگی۔ وہ مدد کے لیے پھڑپھڑا رہی تھی مگر ندی کا پانی اسے بہائے لیے جا رہا تھا۔
درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھے کبوتر نے جب ننھی مکھی کو موت کے منہ میں جاتے دیکھا تو اس کا دل بھر آیا۔ اس نے فوری طور پر اپنی چونچ سے پیپل کا ایک چوڑا، خشک پتا توڑا اور پرواز کر کے اس پتے کو پانی میں تیرتی ہوئی مکھی کے بالکل آگے گرا دیا۔
مکھی نے اپنی تمام تر طاقت سمیٹ کر پتے پر چڑھنے کی کوشش کی اور وہ بحفاظت پتے کے اوپر بیٹھ گئی۔ پتا پانی پر تیرتا ہوا کنارے سے جا لگا۔ تھوڑی دیر میں دھوپ سے مکھی کے پر سوکھ گئے اور وہ خوشی سے کبوتر کا شکریہ ادا کرتی ہوئی اپنے چھتے کی طرف اڑ گئی۔
کچھ دن بعد کبوتر اسی درخت کی شاخ پر بیٹھا آرام سے سستا رہا تھا۔ جنگل میں ایک ظالم شکاری آیا۔ اس نے درخت پر بیٹھے معصوم کبوتر کو دیکھا اور اپنی کمان میں زہریلا تیر چڑھا کر کبوتر کا بالکل سیدھا نشانہ باندھ لیا۔ کبوتر کو اس خطرے کی بالکل خبر نہ تھی۔
قریب ہی پھولوں پر منڈلاتی ہوئی وہی شہد کی مکھی نے جب شکاری کو کبوتر پر تیر چلاتے دیکھا تو وہ بجلی کی تیزی سے اڑی اور ٹھیک اس لمحے جب شکاری تیر چھوڑنے والا تھا، مکھی نے شکاری کے ہاتھ کی انگلی پر پوری طاقت سے اپنا تیز ڈنک مار دیا!
شکاری درد کی شدت سے چلایا: "اوہ میری انگلی!” اس کے ہاتھ میں لرزش آئی اور تیر نشانے سے ہٹ کر دور جھاڑیوں میں جا گرا۔
تیر کی سنسناہٹ اور شکاری کی چیخ سن کر کبوتر ہوشیار ہوا اور فوراً فضا میں اڑ کر اپنی جان بچا گیا۔ اس طرح کبوتر کی ایک چھوٹی سی نیکی نے وقت پر اس کی اپنی جان بچا لی۔