ایک رات ایک چالاک لومڑی اندھیرے میں راستہ بھول کر ایک گہرے اور سوکھے ہوئے کنویں میں جا گری۔ کنواں کافی گہرا تھا، لومڑی نے باہر نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ہر بار پھسل کر نیچے گر جاتی تھی۔ وہ ساری رات کنویں کی ٹھنڈی زمین پر بیٹھی باہر نکلنے کی تدبیریں سوچتی رہی۔
صبح ہوئی تو ایک سیدھا سادہ اور نادان بکرا گھاس چرتا ہوا اس کنویں کے پاس آیا۔ وہ سخت پیاسا تھا اور پانی کی تلاش میں کنویں کے اندر جھانکنے لگا۔
کنویں کی تہہ میں بیٹھی لومڑی نے جب بکرے کو اوپر دیکھا تو اس کے شاطر دماغ میں ایک منصوبہ بجلی کی طرح کوندا۔ اس نے مسکرا کر چہرے پر بڑی خوشی طاری کی اور بولی:
"واہ بھائی بکرے! تم اتنی دیر سے کہاں تھے؟ نیچے آ جاؤ، یہاں کنویں میں اتنا ٹھنڈا، میٹھا اور امرت جیسا پانی ہے کہ میں ساری رات سے پی رہی ہوں مگر میرا دل ہی نہیں بھرتا!”
بھوکے اور پیاسے بکرے نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، اور بغیر سوچے سمجھے کنویں کے اندر چھلانگ لگا دی!
نیچے آ کر جب اس نے پیٹ بھر کر پانی پیا تو ہوش آیا کہ اب باہر کیسے نکلا جائے؟ کنویں کی دیواریں اونچی اور سیدھی تھیں۔ بکرے نے گھبرا کر پوچھا: "لومڑی بہن! ہم دونوں اب اس گہرے کنویں سے باہر کیسے نکلیں گے؟”
لومڑی نے کہا: "فکر مت کرو، میرے پاس ایک زبردست طریقہ ہے۔ تم اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہو جاؤ اور اپنے اگلے کھر کنویں کی دیوار پر جما لو۔ میں تمہاری پیٹھ پر چڑھوں گی اور تمہارے لمبے سینگوں پر پاؤں رکھ کر اوپر کنویں کے کنارے پر پہنچ جاؤں گی، پھر میں تمہیں اوپر کھینچ لوں گی!”
سادہ لوح بکرا راضی ہو گیا اور دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ لومڑی نے پھرتی سے بکرے کی پیٹھ پر پاؤں رکھا، اس کے سینگوں پر چھلانگ لگائی اور کنویں سے باہر نکل کر مزے سے گھاس پر کھڑی ہو گئی۔
بکرے نے نیچے سے گڑگڑا کر پکارا: "لومڑی بہن! اب اپنا وعدہ پورا کرو اور مجھے باہر نکالو!”
لومڑی نے ہنس کر کہا: "احمق بکرے! اگر تمہارے سر میں اتنی عقل ہوتی جتنی لمبی تمہاری داڑھی ہے، تو تم اندر کودنے سے پہلے یہ ضرور سوچتے کہ واپسی کا راستہ کیا ہے!” یہ کہہ کر لومڑی جنگل کی طرف بھاگ گئی اور بکرا کنویں میں پھنسا اپنی حماقت پر روتا رہ گیا۔