کسی زمانے میں ایک خوبصورت جنگل میں شیرا نامی ایک انتہائی طاقتور اور خونخوار شیر رہتا تھا۔ وہ روزانہ بغیر ضرورت کے درجنوں بے گناہ جانوروں کو مار ڈالتا تھا جس کی وجہ سے جنگل کے تمام چرند پرند شدید خوف اور ہراس میں مبتلا تھے۔
آخر کار جنگل کے تمام جانوروں نے ایک پنچایت بلائی اور مل کر شیر کے پاس ایک تجویز لے کر گئے۔ انہوں نے شیر سے کہا: "بادشاہ سلامت! آپ روزانہ درجنوں جانوروں کا شکار کرتے ہیں جس سے جنگل خالی ہو رہا ہے۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ روزانہ قرعہ اندازی کے ذریعے ایک جانور خود آپ کی خوراک کے لیے آپ کے غار پر حاضر ہو جائے گا، بدلے میں آپ باقی جانوروں کو سکون سے رہنے دیں۔” شیر مفت کی روٹی ملنے پر راضی ہو گیا۔
یوں روزانہ ایک جانور کی باری آتی اور وہ شیر کا نوالہ بن جاتا۔ کچھ عرصے بعد قرعہ ایک ننھے، سفید اور بے حد عقل مند خرگوش کے نام نکلا۔
تمام جانور افسردہ تھے، لیکن خرگوش نے مسکرا کر کہا: "دوستو غم نہ کرو، میں آج اس ظالم شیر سے پورے جنگل کو ہمیشہ کے لیے نجات دلانے کی تدبیر کروں گا!”
خرگوش جان بوجھ کر سست رفتاری سے چلا اور دوپہر کے بعد شیر کے غار پہنچا جب شیر بھوک سے پاگل ہو کر دھاڑ رہا تھا۔ شیر نے خرگوش کو دیکھتے ہی گرج کر کہا: "ایک تو تم اتنے ننھے سے ہو کہ میری داڑھ بھی گیلی نہیں ہوگی، اوپر سے تم اتنی دیر سے کیوں آئے ہو؟ میں آج پورے جنگل کو تہس نہس کر دوں گا!”
خرگوش نے ہاتھ جوڑ کر بڑی عاجزی سے کہا: "حضور! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہم دراصل چھ خرگوش آپ کی خدمت میں آ رہے تھے، لیکن راستے میں ایک اور بڑا شیر مل گیا۔ اس نے پانچ خرگوشوں کو پکڑ کر کھا لیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اس جنگل کا اصل بادشاہ ہے اور آپ اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں! میں بڑی منتیں کر کے آپ کو خبر دینے کے لیے بھاگ کر آیا ہوں۔”
یہ سن کر شیرا شیر غصے سے لال پیلا ہو گیا اور دھاڑ کر بولا: "اس جنگل میں میرے علاوہ دوسرا شیر کون ہے؟ مجھے ابھی اس کے پاس لے چلو، میں اس کے ٹکڑے کر دوں گا!”
عقل مند خرگوش شیر کو آگے آگے لے کر ایک گہرے اور پرانے پانی کے کنویں کے پاس پہنچ گیا۔ خرگوش نے دیوار کی طرف اشارہ کر کے کہا: "حضور! وہ دوسرا مغرور شیر اسی پاتال کے قلعے میں چھپا بیٹھا ہے۔”
شیر نے جب غصے سے کنویں کے اندر جھانکا تو نیچے شفاف پانی میں اسے اپنا ہی عکس ایک بڑے ببر شیر کی صورت میں نظر آیا۔ جب شیر نے غصے سے دہاڑ ماری تو کنویں کی دیواروں سے اس کی اپنی گرج دگنی ہو کر گونجی!
شیر نے سمجھا کہ واقعی اندر دشمن موجود ہے جو اسے للکار رہا ہے۔ وہ غصے اور تکبر میں اندھا ہو گیا اور اس نے کنویں کے اندر جھپٹا مار دیا۔ کنواں بہت گہرا تھا، شیر پانی میں ڈوب کر تڑپنے لگا اور باہر نہ نکل سکا اور وہیں غرق ہو گیا۔ خرگوش خوشی خوشی جنگل لوٹا اور سب نے امن کا سانس لیا۔