طبی تحقیق کے مطابق تنہائی روزانہ 15 سگریٹ پینے کے برابر جان لیوا ہے۔ جانیے جب ہم اپنے فون میں گم ہوتے ہیں تو بیڈ پر اکیلے بیٹھے بوڑھے ماں باپ پر کیا گزرتی ہے اور اس خلا کو کیسے پر کریں۔
بزرگوں کی تنہائی کا عذاب
دوست احباب اور شریکِ حیات کا بچھڑ جانا، بچوں کا اپنی ملازمتوں اور موبائل فونز میں مگن ہو جانا بزرگوں کو ایک ویران جزیرے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ وہ ایک ہی کمرے میں گھنٹوں چھت کو تکتے رہتے ہیں اور کسی ایک پیار بھرے بول کے منتظر رہتے ہیں۔
تنہائی کس طرح جسم کو گھلاتی ہے؟
تنہائی صرف ایک احساس نہیں بلکہ ایک تباہ کن حیاتیاتی تناؤ ہے:
- یہ جسم میں اسٹریس ہارمون (Cortisol) کو بڑھاتی ہے جس سے دل کے دورے کا خطرہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
- تنہائی کے شکار بزرگوں میں الزائمر اور ڈیمنشیا دگنی رفتار سے حملہ آور ہوتا ہے۔
- نیند میں بار بار بیداری اور رات کے ڈراؤنے خواب تنہائی کی بدولت پیدا ہوتے ہیں۔
تنہائی توڑنے کے 4 گھریلو سنہری اصول
بزرگوں کو تحفے تحائف سے زیادہ آپ کا خالص وقت درکار ہے:
- 'ڈیجیٹل فری چائے کا وقت': روزانہ رات کو کھانے کے بعد تمام فیملی ممبرز فون چھوڑ کر 20 منٹ بزرگوں کے پاس بیٹھیں۔
- ان سے ان کے بچپن، پرانے رشتے داروں اور گزری ہوئی باتوں کے واقعات پوچھیں؛ بزرگ اپنے قصے سنانے سے خوش ہوتے ہیں۔
- ان کے ہم عمر پرانے دوستوں یا کزنز کو گھر پر چائے کی دعوت دیں یا فون پر رابطہ کروائیں۔
- پوتے پوتیوں کو روزانہ رات کو دادا یا دادی سے کہانی یا قرآنی سبق لینے کی ترغیب دیں۔
ہمسایوں اور کمیونٹی کا کردار
ہمارے اسلامی اور مشرقی کلچر میں اڑوس پڑوس کے بزرگوں کا احوال پوچھنا فرض ہے۔ گلی محلے کے بزرگوں کے لیے پارک میں بیٹھنے اور چہل قدمی کے کلبز قائم کرنا معاشرے کی اولین ذمہ داری ہے۔
